The news is by your side.

Advertisement

کراچی : صبا نور ہلاکت کیس عدالت نے گرفتار جعلی ڈاکٹر کو جیل بھیج دیا

کراچی : مقامی عدالت نے8 سالہ صبا نور ہلاکت کیس میں گرفتار ملزم جعلی ڈاکٹر عدنان کو جیل بھیج دیا ہے، منگل کو پولیس نے جعلی ڈاکٹر عدنان کو مقامی عدالت میں پیش کیا، جہاں پولیس دوران ریمانڈ کوئی پیش رفت نہ کرسکی۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر وحید آسٹریلیا گیا ہوا ہے، ڈاکٹروحید کو ملزم نامزد کیا اور نہ کوئی چھاپہ مارا گیا، ملزم عدنان اپنے جرم اور جعلی ڈگری کا اعتراف کرچکا ہے۔

سماعت کے موقع پر صبا نور کی والدہ فرزانہ عدالت میں شدت غم سے نڈھال ہوگئی والدہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈاکٹر عدنان کے خاندان والے صلح نامہ کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں اور پولیس بھی ملزم کو وی آئی پی پروٹوکول دے رہی ہے۔

انہوں نے عدالت سے استفسار  کیاکہ ملزم نے جعلی ڈگری بنا کر دینے والے دوسرے ڈاکٹر کا نام وحید بتایا ہے پولیس اسے کیوں گرفتار نہیں کر رہی وہ بھی جعلی ڈاکٹر ہوگا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ صبا کی طبیعت خراب ہونے پر  ہم اسے ڈاکٹر عدنان کے کلینک لے گئے، وہاں ڈاکٹر نے دوائیاں منگوائیں ہم دوا لینے گئے اس دوران ڈاکٹر نے صبا کو انجکشن لگادیا ،انجکشن لگتے ہی بچی کا رنگ سیاہ پڑ گیا اور اس کی سانس رک گئی۔

ڈاکٹر کو معلوم نہیں تھا وہ کون سا انجیکشن لگا رہا ہے، میری بچی تڑپتی رہی اور اس نے حالت خراب ہونے پر ہمیں دھکے دے کر کلینک سے نکال دیا۔

ڈاکٹر عدنان نے کہا کہ بچی کو جا کر کسی اور اسپتال میں دکھاؤ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہم عدالت سے انصاف چاہتے ہیں ملزمان کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

مزید پڑھیں: کراچی، ڈاکٹر کی مبینہ غفلت سے ایک اور بچی جاں بحق، ڈاکٹر گرفتار

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کراچی کے علاقے ملیر کالا بورڈ کے نجی اسپتال میں ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت کے باعث 3 ماہ کے بچے کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی تھی جبکہ دوسری شدید متاثر ہے۔ والد کے مطابق ڈاکٹرز نے بچے کو دوا کی زیادہ مقدار دی جس نے ری ایکشن کیا۔ دو روز تک بچے کو تشویشناک حالت میں رکھا گیا جس کے بعد وہ نجی اسپتال میں دم توڑ گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں