The news is by your side.

Advertisement

اسکول ڈیسک کی خریداری : سعید غنی نے مہنگی قیمت کی وضاحت کردی

کراچی : سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی جانب سے مہنگی اسکول ڈیسک خریدنے پر اٹھائے جانے والے سوال کے حوالے سے وزیر اطلاعات سعید غنی نے وضاحت دے دی۔

سعید غنی کا فرنیچر کی خریداری سے متعلق کہنا ہے کہ اسکول فرنیچر کی خریداری میں کئی اہم لوگ پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی، آئی بی اے سکھر سمیت مختلف اداروں کے سربراہان کو کمیٹی کا ممبر بنایا گیا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ اس کمیٹی نے 2018میں ایک پراسیس شروع کیا گیا تھا جو بڈز ان کے پاس آئی تھیں اس کو کمیٹی نے مسترد کردیا تھا۔

سعید غنی نے کہا کہ کچھ ٹی وی چینلز پر یہ خبر چل رہی ہے کہ سندھ میں محکمہ تعلیم نے فرنیچر کی خریداری میں کئی ارب کا ٹیکہ لگایا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ ٹھیکہ میرے دور میں شروع ہوا تھا۔

اسکول ڈیسکوں کی مہنگے داموں خریداری کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ قیمت صرف ڈیسک کی نہیں بلکہ اس فرنیچر کو صوبے کے مختلف اسکولوں میں پہچانا بھی شامل ہے۔

اس لیے ٹرانسپورٹیشن کی مد میں ہونے والے اخراجات بھی اس میں شامل ہیں جس کے باعث قیمت یہاں تک پہنچی۔ اس کے علاوہ کسی بازار سے کوئی چیز خریدنے اور ٹینڈر کے پروسیس کو پورا کرنے میں فرق ہوتا ہے۔

 مزید پڑھیں : سندھ حکومت کی مبینہ کرپشن : 6 ہزار کی اسکول ڈیسک 29 ہزار میں

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) نے وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ کر کے انہیں شکایت کی تھی کہ صوبے کا محکمہ تعلیم مبینہ طور پر دو افراد کے بیٹھنے کے لئے استعمال ہونے والی ڈیسک 320 فیصد اضافی قیمت پر خرید رہا ہے

Comments

یہ بھی پڑھیں