The news is by your side.

Advertisement

قانون کے بغیر سیف سٹی اتھارٹی ای چالان کیسے کررہی ہے؟ لاہور ہائیکورٹ

لاہور : سیف سٹی کیمروں سے کیے جانے والے ای چالان پر لاہور ہائی کورٹ نے سوالات اٹھا دیئے، عدالت کا کہنا ہے کہ قانون بنا نہیں تو اتھارٹی ای چالان کس طرح کررہی ہے؟

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں سیف سٹی کیمروں سے کیے جانے ای چالان کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

اس موقع پر عدالت نے سیف سٹی اتھارٹی کے ذریعے ای چالان کرنے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے سیکریٹری قانون ،سی ای او سیف سٹی اور سیکریٹری ٹرانسپورٹ کو 21 مارچ کو طلب کرلیا۔

عدالت نے پنجاب حکومت کو بھی تفصیلی جواب جمع کروانے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے بغیر سیف سٹی اتھارٹی کے پاس کیا ای چالان کا اختیارہے؟

لاہور ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پرگاڑی کو کیسے بند کیا جاسکتا ہے؟ ڈرائیور کےجرم کی سزا گاڑی کے مالک کو کیسےدی جاسکتی ہے،؟

جسٹس طارق نے کہا کہ اس حوالے سے ابھی قانون بنا ہی نہیں تو کس طرح سیف سٹی اتھارٹی ای چالان کررہی ہے، کیا عدالتی حکم پر قانون سازی کے بغیر ای چالان کئے جاسکتےہیں ؟

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ قانون سازی کے بغیر اس طرح کےاقدامات غیر قانونی ہیں، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ تحریری جواب دینے کیلئے مہلت دی جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں