The news is by your side.

Advertisement

سہانجنہ : وہ درخت جس کے طبی فوائد سے آپ لاعلم تھے

سہانجنہ کے خشک پتوں کا قہوہ پریشانیوں اور دباؤ میں سکون بخشتا ہے اور بھرپور نیند لاتا ہے، قبض کے مریضوں کےلئے آب حیات ہے، خون کی کمی کی وجہ سے چہرے کی چھائیوں میں تیر بہ ہدف ہے ہر طرح کی کمزوری کا واحد علاج ہے، حاملہ عورتوں سے لے کر بچوں تک سب استعمال کر سکتے ہیں۔

یہ درخت اردو میں سہانجنہ اور انگریزی میں ہارس ریڈش یامورنگا کہلاتا ہے ۔ اس کے اور بھی مختلف نام ہیں مثلا ً مورنگا ‘ مورنگا اولیفیرا ‘ ڈرم اسٹک اور بین آئل وغیرہ۔

اس درخت کے متعلق ایک مضمون عبقری رسالے میں غلام قادر ہراج صاحب نے لکھا تھا جس میں انہوں نے اس درخت کے فوائد پر بہت معلومات فراہم کی ہیں اور مختلف بیماریوں کے لئے اس کا استعمال بتایا ہے۔

درحقیقت مورنگا جو کہ ہمارے ہاں سہانجنہ کے نام سے جانا جاتا ہے ایک ایسا درخت ہے جو کہ پاکستان میں پشاور سے کراچی تک بکثرت پایا جاتا ہے، یہ خود رو بھی ہے اور گھروں کھیتوں میں کاشت بھی کیا جاتا ہے۔

سہانجنہ گرم ماحول اور ریتلی زمین میں آسانی سے کاشت ہوتا ہے، بہاول پور کے علاقے میں خود رو درختوں کے جنگل ہیں۔ اس درخت کی اونچائی 25 تا 40فٹ تک ہوتی ہے۔ پھل اور پھول بکثرت سال میں 2 ۔ 3 دفعہ لگتے ہیں لکڑی نرم و نازک اور پھلیاں تقریبا ً ایک فٹ لمبی اور انگلی کے برابر موٹی ہوتی ہیں۔

تیل : سہانجنہ کے بیجوں کا تیل بےبو ‘ بے ذائقہ اور مدت تک پڑا رہنے سے خراب نہیں ہوتا۔ گھڑی کے پرزوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ فوڈ سپلمینٹ ‘ مختلف کاسمیٹک ‘ بالوں اور جلدی امراض میں استعمال کیا جاتا ہے۔

سہانجنہ کا دیسی استعمال : اس کا مزاج گرم و خشک بدرجہ سوم ہے، حدر بول اور ہاضم ہونے کی وجہ سے اس کی جڑ کا پانی دودھ میں ملا کر پلایا جاتا ہے، اندرونی اورام ‘ ورم تلی ‘ ضعف اشتہا ‘ دمہ اور نقرس میں فائدہ کرتا ہے، گردہ اور مثانہ کی پتھری توڑتا ہے۔ جڑ کے جوشاندے سے گلے کی سوزش دور ہوتی ہے۔ خام پھلیوں کا اچار سرکہ میں جوڑوں کے درد ‘ کمر درد اور فالج لقوہ کےلئے مفید ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں