زندگی کے چاک پر‘ سحرتاب رومانی کا نیا شعری مجموعہ -
The news is by your side.

Advertisement

زندگی کے چاک پر‘ سحرتاب رومانی کا نیا شعری مجموعہ

کراچی: اردو دفنِ شعر کی تاریخ کئی تابندہ ودرخشاں ناموں سے جگمگا رہی ہے اور آج کے جدید دور میں جبکہ کچھ افراد کے خیال میں اردو شاعری زوال پذیر ہے‘ ایسے شاعر بھی موجو د ہیں جو اپنی عمدہ شاعری سے ایسے ناقدین کا بھرم توڑدیتے ہیں اور ان میں سےایک سحرتاب رومانی ہیں جن کا تیسرا شعری مجموعہ ’زندگی کے چاک پر‘ حالیہ دنوں اشاعت کے مراحل سے گزر کر قارئین تک پہنچا ہے اور پذیرائی حاصل کررہا ہے۔

اس سے قبل سحرتاب رومانی کےدو شعری مجموعے ’ممکن ‘ اور’گفتگو ہونے کے بعد ‘ شائع ہوچکے ہیں۔ حالیہ مجموعہ کلام میں غزلوں کی تعداد69 ہے اور سب کی سب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔

sahartab 1

کتاب کا جائزہ

ادب ارتقاء سے تعبیر ہے اور سحرتاب رومانی بلاشبہ شعری ادب میں جدت پر یقین رکھنے والے شاعر ہیں اور ان کے اشعار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ لفظوں اور تشبیہات کو انتہائی خوبی کے ساتھ نئے اندا زمیں استعمال کرنے کا فن جانتے ہیں، ان کی کتاب زندگی کے چاک پر جن اشعار کو سرنامہ کلام منتخب کیا گیا ہے ذرا انہیں ملاحظہ کیجئے گا۔

سوزِ جمالِ عشق میں حدت بھی چاہیے
یعنی غزل میں وصل کی لذت بھی چاہیے
فکرو خیال‘ لطف سے بھرپور ہیں مگر
تازہ کلا م ہی نہیں جدت بھی چاہیے

لہجے میں سوز درد کا‘ غم میر کا ملا
میری غزل میں فن نئی تدبیر کا ملا

اردو غزل بہت حد تک اپنی ہیت تبدیل کرچکی ہے اور اب یہ محب و محبوب کے روایتی تصور سے باہر آکر نئے فکری میدانوں کو مسخر کررہی ہے اور آج کےد ور میں وہی شاعر کامیاب اور مقبو ل ہے جو اپنے ارد گر د کے حالات سے ناصرف واقف ہے بلکہ انہیں شعری قالب میں بھی ڈھال رہا ہے اور یہی وسعتِ نظری ہمیں سحرتاب رومانی کے ہاں بھی نظر آتی ہے ‘ ان کے اشعاران کے دور کے سماجی حالات کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ میرے شہر میں ہوتا تھا اکثر
میں اپنے قتل پر ششدر نہیں تھا

خا ک اڑتے ہوئے کراچی میں
کام سارے ہوئے کراچی میں

کرداروں کے فاسق لوگ
بن بیٹھے ہیں رازق لوگ

جب کسی ملک کے معاشی حالات زوال کی جانب گامزن ہوتے ہیں تو اس ملک میں علم و ادب کے لیے اپنی بقا کی جنگ جاری رکھنا مشکل ہوجاتا ہے اور ایسے ہی کچھ حالات آج پاکستان کے اہل علم و فن کو بھی درپیش ہیں اور یقیناً سحرتاب اس صورتحال کا بھرپور ادراک رکھتے ہیں۔

بڑی قیمت تھی میرے فن کی لیکن
ترے بازار میں سستا ہوا ہوں

شاعر‘ حال کے نوحہ گر اور مستقبل کے سندیسہ نویس ہوا کرتے ہیں‘ ان کا ہاتھ زمانے کی نبض پہ ہوتا ہے اور وہ آنے والے وقتوں کی اچھائیوں اور برائیوں کا ادراک رکھتے  ہیں اوربحیثیت شاعر یہی سلسلہ ہمیں سحرتاب کے ہاں بھی نظرآتا ہے۔

گرجائے گی اٹھتی ہوئی دیوار کسی دن
ہم لوگ چلے جائیں گے اس پار کسی دن

جانا حدِ افلاک سے آگے ہے مجھے تو
میں روک دوں گا وقت کی رفتار کسی دن

جدید موضوعات کو تراشنے والے سحرتاب ایسا نہیں کہ روایتی شاعری کی لطافت اور اہمیت سے نا آشنا ہیں۔ عشق و وصال کے لطیف جذبے ان کے ہاں انتہائی شائستگی کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔

چادر وصال کی مری راتوں پہ ڈال کر
اک شخص میرے خواب کا بستر بدل گیا

تمہاری آرزو جاتی نہیں ہے
فلک پراک شفق ہے اور میں ہوں

شاعر کے بارے میں

زندگی کے چاک پرجیسا عمدہ شعری مجموعہ تخلیق کرنے والے سحرتاب رومانی اس سے قبل دو اور کتابیں ضبطِ تحریر میں لاچکے ہیں جو کہ ’ممکن‘ اور’گفتگو ہونے کے بعد‘ کے عنوان سے ہیں اور یہ دونوں بھی شعری مجموعے ہیں۔

sahartab 2

سحرتاب رومانی نےسن 1965 میں سندھ کے شہر خیرپور کے ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں ان کا بچپن آسودگیوں سے نا آشنا گزرا اور پھر یہی نا آشنائی ان کی ذات کی آشنا بن کر ان کے اشعار میں اتر آئی۔

بعد ازاں ان کا خاندان خیر پور سے سکھر منتقل ہوگیا جہاں سحرتاب نے اپنی تعلیم مکمل کی اور ادبی سرگرمیوں کا آغازکیا، ابتدا میں محض شاعری ہی جذبات کے اظہار کا ذریعہ رہی تاہم بعد میں صحافت کے میدان میں انہوں نے طبع آزمائی کی ۔ شاعری کے علاوہ مذہب‘ تاریخ ‘ فلسفہ اور تحقیق کے میدان میں بھی دلچسی رکھتے ہیں اور اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔

سحرتاب رومانی 1989 میں ملازمت کے سلسلے میں کراچی منتقل ہوئے اور یہی سے ان کے فنی سفر کو ایک نیا نقطہ آغاز ملا۔سن 1985 میں شعر کہنے کی ابتدا کرنے کے بعد شاعری کا باقاعدہ آغاز انہوں نے 1990 میں کیا اور کئی ملکی اور غیر ملکی مشاعروں میں میں شرکت کی اور اپنے منفرد لب ولہجے کی بنا پر اپنا مخصوص حلقہ سامعین تشکیل دیا۔

sahartab 3

ان کی طبیعت کے سیلانی پن نے انہیں کراچی ایسے نادر ِ روزگار شہر میں بھی مستقل قیام کرنے نہیں دیا اور سن 2001 میں رومانی روزگار کے سلسلے میں دبئی چلے گئے جہاں ایک طویل عرصہ یعنی 12 سال صرف کرنے کے بعد واپس کراچی لوٹ آئے اور اب یہیں کے مقیم ہیں۔ صحیح کہا ہے کسی نے لوگ تو کراچی کو چھوڑدیتے ہیں لیکن ایک بار جسے اپنا لیا‘ پھر کراچی ان کو نہیں چھوڑتا۔

سحرتاب رومانی بنیادی طور پر مکینیکل انجینئرنگ کے شعبے میں فارغ التحصیل ہیں لیکن قسمت نے ان کا روزگار اکاؤنٹس کے شعبے میں رکھا ہے اور اس وقت بھی ایک کمپنی میں اکاؤنٹس کے شعبے سے ہی وابستہ ہیں۔

سحرتاب بنیادی طورپر غزل کے شاعر ہیں تاہم کبھی کبھی منہ کا ذائقہ تبدیل کرنے کی خاطر نظم کہتے ہیں اور ان کا کلام مختلف ادبی رسائل و جرائد اور اخبار کی زینت بھی بنتا رہتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں