The news is by your side.

Advertisement

ایک باکمال گلوکار کے آگے شاعر کی کیا اوقات!

مشہور شاعر ساحر لدھیانوی اور ایک گلوکارہ کے مابین تلخ مکالمے

ساحر لدھیانوی کو جہاں ان کی نظموں اور فلمی شاعری کی وجہ سے ہندوستان بھر میں‌ پہچان ملی، وہیں‌ عاشقی اور تنک مزاجی کے لیے بھی پہچانے گئے۔

ایک زمانہ تھا جب فلم نگری میں‌ ان کے گیتوں کا چرچا تھا اور ان کی شاعری اپنے وقت کی مشہور اور مقبول گلوکاراؤں کی آواز میں‌ ریکارڈ ہوئی۔ ایسی ہی ایک گلوکارہ اور ساحر لدھیانوی کے درمیان ایک گیت کی ریکارڈنگ کے دوران تلخ کلامی ہوئی اور بات اتنی بڑھی کہ وہ مغنیہ گانا ریکارڈ کروائے بغیر اسٹوڈیو سے چلی گئی۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ وہ ہندوستانی گلوکارہ اور ساحر لدھیانوی ایک ہی ڈاکٹر سے علاج کراتے تھے۔ ایک مرتبہ ساحر صاحب بغرضِ علاج ڈاکٹر کے کلینک میں گئے اور انتظار گاہ میں بیٹھ گئے۔ وہ اپنی باری آنے کا انتظار کرنے لگے، کیوں کہ ڈاکٹر اپنے مطب میں کسی اور مریض کو دیکھنے میں مصروف تھا۔

اچانک ساحر کو ڈاکٹر کے کمرے سے اسی گلوکارہ کی آواز سنائی دی جو گویا ڈاکٹر کی معلومات میں اضافہ کررہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کل فلموں کے گیت گلوکاروں کے گلے کے کمال کی وجہ سے مقبول ہوتے ہیں، مگر یہ شاعر اور گیت کار لوگ دنیا بھر میں اپنے فن اور قابلیت کے ڈنکے پیٹتے پھرتے ہیں۔

گلوکارہ بولے چلی جارہی تھی۔ اس نے کہا، اب تو حد ہو گئی ہے، ریڈیو پر گلوکار کے ساتھ اپنا نام بھی اناؤنس کرانا چاہتے ہیں اور اس مقصد سے دلّی تک بھاگے پھر رہے ہیں۔ شاعر ہو یا موسیقار بھلا ایک باکمال گلوکار کے آگے اس کی کیا اوقات ہے۔

ایک گلوکارہ کے منہ سے صاحبِ قلم برادری کے لیے ایسے تضحیک آمیز الفاظ سن کر ساحر صاحب بھنّا گئے اور ڈاکٹر کے کیبن کا دروازہ کھول کر بغیر اجازت اندر گُھس گئے۔

وہ ڈاکٹر کو نظر انداز کرتے ہوئے، اس گلوکارہ سے مخاطب ہو کر بولے کہ ’’مادام، اگر ہمّت ہے تو آج کے بعد آپ میرے لکھے ہوئے گیت ہرگز نہ گائیے گا۔ ہم بھی دیکھیں گے کہ اچھی شاعری کے بغیر آپ کیسے کام یاب ہوتی ہیں۔‘‘ اس گلوکارہ نے وہاں بیٹھے ہوئے ان کا چیلنج تو قبول کر لیا، مگر عملی دنیا میں اپنے مسابقے کے پیشِ نظر دو دن ہی میں اسے بھلا بھی دیا۔

(ماخذ: مضمون ‘چند یادگار نغمے’)

Comments

یہ بھی پڑھیں