The news is by your side.

Advertisement

ممتاز ادیب، نقاد اور ماہرِ تعلیم سجاد باقر رضوی کی برسی

سجاد باقر رضوی کو اردو ادب میں‌ ایک شاعر، ادیب، نقاد اور مترجم کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ انھوں نے درس و تدریس کے شعبے میں‌ خدمات انجام دیتے ہوئے خود کو علمی اور ادبی سرگرمیوں‌ سے جوڑے رکھا۔ 13 اگست 1992 کو سجاد باقر رضوی اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

ان کا تعلق اعظم گڑھ، یو پی سے تھا جہاں‌ وہ 4 اکتوبر 1928 کو پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سجاد باقر رضوی کراچی آگئے اور یہاں‌ جامعہ کراچی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد لاہور چلے گئے۔ لاہور میں‌ انھیں‌ اسلامیہ کالج سول لائنز اور اورینٹل کالج، پنجاب یونیورسٹی سے وابستہ ہوکر تعلیم کے شعبے میں‌ خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔

سجاد باقر رضوی نے تنقید کے میدان میں نہایت اہم اور وقیع کام کیا۔ اس ضمن میں مغرب کے تنقیدی اصول اور تہذیب و تخلیق اردو تنقید کی اہم کتابوں میں شمار کی جاتی ہیں۔ سجاد باقر رضوی کے شعری مجموعے ’’تیشۂ لفظ‘‘ اور ’’جوئے معانی‘‘ کے نام سے شایع ہوئے۔ تراجم میں داستانِ مغلیہ، افتاد گانِ خاک، حضرت بلال اور بدلتی دنیا کے تقاضے کے نام سے ان کی کتابیں‌ ادبی کارنامہ ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں