The news is by your side.

Advertisement

ممتاز پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر سلیم الزّماں صدیقی کی برسی

پاکستان کے نام وَر سائنس دان اور استاد ڈاکٹر سلیم الزّماں صدیقی نے 1994ء میں‌ آج ہی کے دن دارِ بقا کی جانب کوچ کیا تھا۔ سائنس اور بالخصوص کیمسڑی کے میدان میں‌ انھوں نے دنیا بھر میں‌ پاکستان کا نام روشن کیا جس کے اعتراف میں ملک اور بیرونِ ملک کئی اعزازات سے نوازے گئے۔

1966ء میں ڈاکٹر سلیم الزّماں صدیقی نے جامعہ کراچی میں حسین ابراہیم جمال پوسٹ گریجویٹ انسٹیٹیوٹ آف کیمسٹری قائم کیا تھا اور زندگی بھر یہاں‌ خدمات انجام دیتے رہے۔

ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی 19 اکتوبر 1897ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ 1919ء میں انھوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے گریجویشن کیا، بعد میں انگلستان اور جرمنی سے کیمسٹری کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ 1927ء میں فرینکفرٹ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کے بعد ہندوستان لوٹ آئے جہاں مشہور حکیم اجمل خان کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ہوئے۔ یہ جڑی بوٹیوں پر تحقیق کا ایک بڑا مرکز اور مستند ادارہ تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد ڈاکٹر سلیم الزّماں صدیقی پاکستان کراچی چلے آئے۔ 1983ء میں انھوں نے پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کی بنیاد رکھی اور بانی چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

اپنے طویل علمی و تحقیقی سفر میں انھوں نے تین سے زائد ریسرچ پیپرز لکھے اور چالیس سے زائد پیٹنٹس اپنے نام کیں جو زیادہ تر نیچرل پراڈکٹ کیمسٹری سے تعلق رکھتی ہیں۔

ڈاکٹر صدیقی کا ایک اہم کام چاند بوٹی یا راوولفیا سرپنٹینا نامی پودے پر ہے جو پاک و ہند میں عام پایا جاتا ہے۔ ایک عرصے سے اسے مختلف امراض کے علاج میں استعمال کیا جارہا ہے۔

حکیم اجمل خان کے قائم کردہ ایک نئے طبی کالج کی ذمے داریاں سنبھالنے کے بعد آیورویدک اور یونانی طب پر تحقیق کا سلسلہ شروع کیا۔ اس ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے انھوں نے راوولفیا سرپنٹینا پودے سے نو اہم الکلائیڈز کشید کیے۔ الکلائیڈز وہ کیمیکل ہوتے ہیں جو پودوں اور درختوں میں عام پائے جاتے ہیں۔ مارفین، کونین اور کیفین وغیرہ مشہور الکلائیڈز ہیں۔ سلیم الزماں صدیقی کا یہ کام دنیا میں امراضِ قلب، بلڈ پریشر اور دماغی بیماریوں کے علاج کے لیے کارآمد اور مفید ثابت ہوا۔

ڈاکٹر سلیم الزّماں صدیقی ایک اچھے مصوّر بھی تھے۔ ان کی تصاویر کی باقاعدہ نمائشیں بھی منعقد ہوتی رہیں۔ حکومتِ پاکستان نے انھیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی، ستارہ امتیاز اور ہلالِ امتیاز سے نوازا جب کہ بیرونِ ممالک سے جو اعزازات ان کے حصّے میں آئے، ان میں سوویت سائنس اکیڈمی اور کویت فائونڈیشن کے طلائی تمغے اور برطانیہ کی رائل اکیڈمی آف سائنسز اور ویٹیکن اکیڈمی آف سائنسز کی رکنیت سرفہرست ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں