The news is by your side.

Advertisement

اعلیٰ بی اور ہاسٹل کی لڑکیاں

آج، دورِ جدید میں جہاں صرف لڑکوں ہی نہیں‌، لڑکیوں کے لیے بھی اعلیٰ مدارج تک حصولِ تعلیم کو ضروری سمجھا جانے لگا ہے، اور ان کا گھروں سے باہر کمانے کے لیے جانا، سرکاری و نجی اداروں میں‌ ملازمت، حتٰی کہ تجارتی مراکز میں دکان لے کر بوتیک، بیوٹی پارلر چلانا یا اسی قسم کی کاروباری سرگرمیاں انجام دینا بھی عام ہو گیا ہے، بالکل اسی طرح لڑکیاں کالجوں اور جامعات میں سائنس و فنون کے مضامین کے علاوہ تیکنیکی مہارت کے ان شعبوں میں‌ بھی زیرِ تعلیم ہیں‌ جن میں‌ کل تک صرف لڑکے ہی داخلہ لیتے تھے۔

دنیا بدل گئی ہے، اور ہمارا معاشرہ چند دہائیوں کے دوران بڑی تبدیلیوں سے گزرا ہے اور گزر رہا ہے، لیکن جہاں آج کی عورت خاصی حد تک اپنے معاملات میں آزاد اور خودمختار ہوئی ہے، وہیں‌ چاہے لڑکے ہوں یا لڑکیاں‌، ان کی تربیت اور کردار سازی بہت اہم ہے اور اسے نظرانداز نہیں‌ کیا جاتا۔

کہتے ہیں ایک اچّھی، خوش گوار اور باعزّت زندگی، اچھی تعلیم وتربیت ہی کی مرہونِ منت ہے۔ آج بھی لڑکی جب بیاہ کر دوسرے گھر جاتی ہے تو جہاں اس کی تعلیم، اور دوسری اوصاف کو دیکھا جاتا ہے، وہیں‌ کل کی طرح آج بھی اس کا رکھ رکھاؤ، قرینہ سلیقہ، اندازِ گفتگو اسے دل جیتنے میں مدد دیتا ہے۔ اس تناظر میں‌ پیشِ نظر سطور سے آپ جان سکیں‌ گے کہ دہائیوں‌ پہلے تعلیمی ادارے کس طرح لڑکیوں‌ کو اعلیٰ‌ تعلیم سے بہرہ مند کرنے کے ساتھ ان کی تربیت اور کردار سازی پر زور دیتے تھے۔

“انٹر تک ہم وحیدیہ ہوسٹل میں رہتے تھے جس کی عمارت ایک نیم دائرے کی شکل میں تھی۔ اِدھر اُدھر کمرے کے بیچ میں ایک بڑا سا ڈائننگ ہال، جس کی دیواروں پر اور متفرق تصاویر کے ساتھ پاپا میاں اور اعلیٰ بی کی تصویریں بڑے بڑے فریموں میں آویزاں تھیں۔ یہ بانیِ کالج شیخ عبداللہ اور ان کی بیگم وحید جہاں کی تصویریں تھیں۔

کالج کی لڑکیاں بھی انھیں اسی نام سے پکارتی تھیں جس نام سے ان کے بچّے پکارتے ہوں گے۔ وحیدیہ ہوسٹل کا سنگِ بنیاد بھی ان ہی خاتون نے رکھا ہوگا بلکہ اسکول اور کالج کی بنیاد ہی ان نیک دل میاں بیوی نے ڈالی تھی اور اس پاکیزہ مقصد کے لیے شانہ بہ شانہ سعی و عمل میں گرفتار بے غرضانہ زندگی بسر کی تھی۔

ان روشن دل خاتون کی ہلکی سی مسکراہٹ، دل کی طرح آنکھیں بھی غیر معمولی روشن آنکھیں تھیں، لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ اور دونوں کے چہرے کی پاکیزگی اور معصومیت آج بھی میری آنکھوں میں ہے۔

سُنا ہے جب یہ ڈولی میں بیٹھ کر لڑکیوں بچّیوں کو اسکول تک لانے کے لیے ان کے گھروں تک جاتی تھیں تو قدامت پسند لوگ راستے میں ان کی ڈولی پر ڈنڈے برساتے تھے۔ بعد میں سنا ہے کہ ڈولی کی جگہ بیل گاڑی نے لے لی تھی۔

ان کی وسیع و عریض کوٹھی “عبداللہ لاج” چند قدم کے فاصلے پر تھی، مگر کئی لاوارث لڑکیاں جو ہوسٹل میں مقیم تھیں وہ شب و روز ان ہی کے زیرِ سایہ رہتی تھیں۔ یہ ان کے لیے کھانا پکواتیں اور ان کے ساتھ ہی کھاتی تھیں۔ ان کے لباس، نہانے دھونے، کنگھی چوٹی کی فکر رکھتیں اور ان کو زندگی بسر کرنے کے گُر سکھاتیں۔

زندگی کا جو سانچا وہ مقرّر کر گئی تھیں، وہاں کی لڑکیوں کی تربیت اسی ڈھب پر ہوتی رہی۔ اب کا حال خدا جانے مگر یہاں پاکستان میں اکثر نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ “علی گڑھ کی پڑھی ہوئی لڑکیاں سب ایک جیسی کیوں ہوتی ہیں! وہی ایک سا سلجھا ہوا انداز، قدیم و جدید کا ایک مناسب امتزاج، ہوش مند مگر اتنی سادہ کہ انداز سے بالکل گھریلو لگتی ہیں۔”

سچ کہا بالکل درزی کی سوئی، موٹے مہین سے یکساں گزرنے والی۔ یہ اعلیٰ بی کی تربیت تھی جو نسلاً بعد نسل منتقل ہوتی رہی۔ چناں چہ وہاں کی تربیت یافتہ لڑکیوں کا قرینہ ایک سا ہی رہا۔”

(سلمیٰ شان الحق حقی کی کتاب ‘شہیدانِ وفا کا خوں بہا کیا’ سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں