The news is by your side.

Advertisement

پشتو زبان کے نام وَر ادیب اور شاعر سمندر خان سمندر کا یومِ وفات

پاکستان کے عظیم شعرا کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یادگاری ڈاک ٹکٹوں کی سیریز کا سلسلہ شروع ہوا تو 2002ء میں سمندر خان سمندر یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیا گیا تھا۔ وہ پشتو زبان کے ادیب، محقق، شاعر اور مترجم کی حیثیت سے نام و مقام رکھتے ہیں۔

یکم جنوری 1901ء کو پیدا ہونے والے سمندر خان سمندر 17 جنوری 1990ء کو جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔ آج ان کی برسی ہے۔

سمندر خان سمندر بدرشی، نوشہرہ کینٹ کے رہائشی تھے۔ وہ ایک زمانے میں خاکسار تحریک سے وابستہ رہے اور بعد میں مسلم لیگ سے جڑ گئے۔ ان کی زندگی اور فن سے نئی نسل کو روشناس کرانے کے لیے پشتو کے ادیب اور شعرا اور جامعات کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ سمندر خان سمندر کے یادگاری ڈاک ٹکٹ پر ان کا خوب صورت پورٹریٹ شایع کیا گیا تھا جس کی مالیت دو روپیہ تھی۔

ان کی تصانیف میں ژور سمندر، دادب منارہ، میرمنے، کاروان روان دے، لیت ولار، خوگہ شپیلئی، پختنے، قافیہ، دایلم سوکہ، دقرآن ژڑا اور بلے ڈیوے شامل ہیں۔

انھوں نے علّامہ اقبال کی مثنوی اسرارِ خودی اور رموزِ بے خودی کا بھی منظوم پشتو ترجمہ کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں