The news is by your side.

Advertisement

سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ کیس کا فیصلہ 14مارچ تک مؤخر

نئی دہلی : سمجھوتہ ایکسپریس دھماکا کیس کا فیصلہ 14مارچ تک مؤخر کردیا گیا ، دھماکے میں68 افراد جاں بحق ہوئے تھے ، جن میں اکثریت پاکستانیوں کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی عدالت نےسمجھوتہ ایکسپریس دھماکےکافیصلہ14مارچ تک مؤخرکردیا ، بھارتی این آئی اے سوامی اسیم آنند سمیت ہندو انتہا پسندوں کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔

این آئی اے نے دلائل دیئے تھے کہ دھماکے میں پاکستانی مسلمانوں کو ہدف بنایاگیا تھا۔

کیس میں مرکزی ملزم انتہاپسند تنظیم کا رہنما اسیم آنند ہے، جن کا تعلق ایک شدت پند تنظیم ‘ابیھنو بھارت’ سے ہے جبکہ دیگر ملزمان میں لوکیش شرما، سندیپ ڈانگے اور رما چندر کلسانگرا شامل ہیں۔

سوامی اسیم آنندپرمکہ مسجداوراجمیردرگاہ سمیت دیگرکارروائیوں کابھی الزام تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سمجھوتہ ایکسپریس میں فروری2007 میں بم دھماکہ ہوا تھا، دھماکے کے بعد دو بوگیوں میں آگ لگ گئی تھی، اس دھماکے میں68افراد جاں بحق ہوئے ، جن میں اکثریت پاکستانیوں کی تھی۔

سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں300گواہ تھے  جبکہ  3سال میں سمجھوتہ ایکسپریس کیس کے درجنوں گواہ منحرف ہوئے۔

مزید پڑھیں :  بھارت نے سمجھوتہ ایکسپریس کا مرکزی ملزم رہا کردیا

واضح رہے  سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکہ 18 فروری  2007 میں ہریانہ کے شہر پانی پت کے نزدیک ہوا تھا، جس میں 68 افراد جاں بحق ہوئے جن میں غالب اکثریت پاکستانی شہریوں کی تھی، بھارت نے سمجھوتہ ایکسپریس کاالزام بھی پہلےپاکستان پرلگایا تھا۔

اس دھماکے میں سوامی اسیم آنند سمیت کئی ہندو شدت پسند گرفتار کئے گئے،  یہ مقدمہ چندی گڑھ سے ملحقہ شہر پنج کولہ کی ایک عدالت میں چلا، مقدمے کے اصل ملزم اور آر ایس ایس کے سرگرم دہشت گرد سوامی اسیم آنند کو  ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں