The news is by your side.

Advertisement

بھارتی فلم "سمراٹ پرتھوی راج” بری طرح فلاپ

ممبئی : بالی ووڈ اداکار اکشے کمار اور ہدایت کار چندر پرکاش دویدی کی نئی فلم "سمراٹ پرتھوی راج” نمائش کیلئے پیش ہونے کے کچھ دن بعد ہی ناکام ہوگئی۔

تقریباً 300 کروڑ کی لاگت سے بننے والی اس فلم نے پہلے دن صرف 10 کروڑ روپے ہی کمائے ہیں جس سے فلم بینوں میں اس کی اہمیت کا اندازاہ لگایا جاسکتا ہے

اس حوالے سے تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر بھارتی وزیراعظم مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ سمیت تمام مرکزی وزراء اور بی جے پی کے تمام رہنما کشمیر فائل کی طرح اس فلم کی تشہیر کریں تو شاید کچھ لوگ اور دیکھ لیں مگر تب بھی پروڈیوسر نقصان کا پورا ہونا بہت مشکل لگ رہا ہے۔

فلم کے مکالمے چندر پرکاش دویدی نے لکھے ہیں، اتر پردیش حکومت نے فلم کو ٹیکس فری کردیا ہے لیکن سنیما میں ٹکٹ فروخت کرنے والی لڑکی کا کہنا تھا کہ ہمیں ابھی تک ایسی کوئی ہدایت نہیں ملی ہے۔

تنقید نگاروں کے مطابق جب فلم شروع ہوئی تو سینما ہال میں بمشکل 30 سے 35 لوگ بیٹھے تھے، صرف ایک بار ایک شخص نے انٹرویل کے بعد ایک ڈائیلاگ پر تالی بجائی۔

فلم اپنے آغاز اور اختتام میں تھوڑااثر چھوڑتی ہے حالانکہ دونوں بار اس فلم میں آسکر ایوارڈ جیتنے والی فلم گلیڈی ایٹر کی جھلک نظر آتی رہی، اب نہ تو چندر پرکاش دویدی ریڈلے اسکاٹ ہیں اور اکشے کمار بھی رسل کرو نہیں ہیں۔ پھر بھی ان دونوں مواقع پر اکشے کی کارکردگی اچھی رہی کیونکہ یہ بنیادی طور پر وہ ایکشن کے مناظر ہیں۔

پوری فلم فلیش بیک میں ہے، اس کے ڈس کلیمر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ فلم بنیادی طور پر چند بردائی کی پرتھوی راج راسو پر مبنی ہے، فلم کے ابتدائی حصے میں پرتھوی راج کی تعریف میں ایک گانا چلایا جاتا ہے جس میں ان کا موازنہ گوکل کے موہن اور کروکشیتر کے ارجن سے کیا گیا ہے۔

فلم دیکھتے ہوئے ایسا لگتا تھا کہ ہدایت کار چندر پرکاش دویدی فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں کہ پرتھوی راج- سنیو گیتا کی محبت کی کہانی پر زیادہ فوکس کریں، پرتھوی راج- جے چند کی کہانی یا پرتھوی راج- محمد غوری کی جدوجہد پر، قصہ گوئی کے اس کنفیوزن کی وجہ سے فلم کو نقصان ہوا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں