The news is by your side.

Advertisement

سام سنگ کے ورثا اربوں ڈالر پر مشتمل آدھی سے زیادہ دولت خاص ٹیکس میں ادا کریں گے

سیئول: جنوبی کوریا کی اسمارٹ فون بنانے والی سب سے بڑی کمپنی سام سنگ کے ورثا اربوں ڈالر پر مشتمل آدھی سے زیادہ دولت حکومت کو وراثت ٹیکس میں ادا کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق سام سنگ کے ورثا نے حکومت کو وراثت ٹیکس کی مد میں 10 ارب ڈالر سے زائد ٹیکس دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، اکتوبر میں انتقال کرنے والے سام سنگ کے سربراہ لی کُن ہی کے چھوڑے گئے اثاثوں سے ان کے ورثا حکومت کو 10.8 بلین امریکی ڈالر کے برابر پراپرٹی ٹیکس ادا کریں گے۔

کورین قانون کے مطابق اگر وراثت 25 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے تو ان اثاثوں کا 50 فی صد حصہ حکومت کو ٹیکس میں جائے گا، کچھ معاملات میں یہ حصہ 65 فی صد بھی ہو سکتا ہے۔

ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ لی کُن ہی کے لواحقین وراثتی ٹیکس کی مد میں حکومت کو جتنی رقم ادا کریں گے، وہ چھوڑے گئے اثاثوں کی مجموعی مالیت کے نصف سے بھی زیادہ بنتی ہے، اور جنوبی کوریائی کرنسی میں ٹیکس کی یہ رقم 12 ٹریلین وان سے زیادہ بنتی ہے۔

سام سنگ فیملی

لی کن ہی ملک کے سب سے امیر آدمی تھے، جب گزشتہ اکتوبر میں 78 برس کی عمر میں ہارٹ اٹیک سے ان کا انتقال ہوا تھا تو اس وقت ان کی دولت کا تخمینہ 14.2 بلین ڈالر لگایا گیا تھا۔

بیان کے مطابق یہ پراپرٹی ٹیکس جنوبی کوریا ہی نہیں، دنیا بھر میں کسی بھی ملک کی حکومت کو کسی خاندان کی طرف سے ادا کیے جانے والے سب سے زیادہ پراپرٹی ٹیکسوں میں سے ایک ہوگا۔

واضح رہے کہ سام سنگ گروپ کے آنجہانی چیئرمین لی کُن ہی کے واحد بیٹے اور سام سنگ کے ارب پتی وارث لی جائے یونگ پانچ سال کی قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، انھیں 2017 میں سابق وزیر اعظم کو رشوت دینے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔

لی خاندان کے بیان کے مطابق ٹیکس کی ادائیگی 6 قسطوں میں اگلے 5 سال میں مکمل ہوگی، املاک میں سے ایک ٹریلین (ایک ہزار بلین) وان چند خیراتی منصوبوں کے لیے بھی عطیہ کیے جائیں گے، لی کُن ہی کے 23 ہزار سے زائد بہت قیمتی فن پاروں میں سے بھی بہت سے عطیہ کر دیے جائیں گے، ان فن پاروں میں مارک شاگال، پابلو پکاسو اور کلود مونے جیسے عظیم فن کاروں کی تخلیقات بھی شامل ہیں۔

لی کن ہی اپنے انتقال تک جنوبی کوریا کے امیر ترین شہری تھے، انھوں نے اپنے پس ماندگان میں ایک بیوہ، 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا چھوڑا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں