The news is by your side.

Advertisement

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ سے زائد افراد کو نکالنے کا فیصلہ

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا کہنا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ سے زائد غیر مستحق افراد کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر مستحقین کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکالا گیا ہے۔ 10 سال قبل سروے کے ذریعے مستحقین کا تعین کیا گیا تھا، 10 سال میں لوگوں کے حالات بدل جاتے ہیں۔

ڈاکٹر ثانیہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے فیصلہ کیا کہ پروگرام سرکاری ملازمین کے لیے نہیں ہے، 8 لاکھ 20 ہزار 165 خواتین کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقدامات مستحق افراد تک مالی امداد پہنچانے کے لیے اٹھائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غیر مستحق افراد کو 2011 سے ادائیگیاں کی جارہی تھیں۔ ایسا شخص جس کے نام پر گاڑی ہو، پی ٹی سی ایل یا موبائل کا بل ایک ہزار سے زائد ہو، ایسے افراد اہل نہیں۔

ڈاکٹر ثانیہ نے بتایا کہ اسی پروگرام کے تحت نیا پروگرام کفالت شروع کر رہے ہیں۔ کوئی بھی خاتون معیار پر پورا اترے بغیر پروگرام کا حصہ نہیں ہوگی۔ پروگرام کا حصہ نہ بننے پر اپیل کا دروازہ کھلا ہوگا۔ اب 100 فیصد بائیو میٹرک نظام پر جا رہے ہیں، کارڈ کا نظام 15 دسمبر سے ختم ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین اب بائیو میٹرک اے ٹی ایم استعمال کر سکیں گی، اکاؤنٹ سے پیسہ نکلنے پر ہماری اسکرین پر تفصیل آجائے گی۔ ہم خواتین کی خود کفالت کے لیے حوصلہ افزائی کریں گے۔ دیے گئے وظیفے کو مہنگائی کی شرح سے منسلک کر دیا ہے، وظیفے میں 500 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر ثانیہ کا کہنا تھا کہ ہم نے 2 بینکوں سے معاہدے ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر کیے۔ ایل او سی کے تمام 216 گاؤں میں غربت کی لکیر کو ختم کیا ہے۔ ایل او سی کے مکینوں کو کفالت پروگرام میں زیادہ شامل کریں گے۔ جن کے پاس شناختی کارڈ ہوں گے ان کو وظیفے دیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں