The news is by your side.

Advertisement

خواتین پر تشدد کے حوالے سے بنائے گئے قوانین پرعملدرآمد کرانا ہوگا‘ چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ

لاہور: چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس سردار محمد شمیم خان نے کہا ہے کہ خواتین پر تشدد کے حوالے سے صرف قانون بنا دینے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ ان قوانین پر عملدرآمد کرانا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس سردار محمد شمیم خان نے لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین سے زیادتیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں، موجودہ دور میں خواتین کے تحفظ کے لیے ریفارمز کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ دین اسلام بھی خواتین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جینڈر بیسڈ وائیلنس کے حوالے بنائی گئی عدالتیں موثر طریقے سے کام کر رہی ہیں۔

جسٹس سردار شمیم محمد خان نے کہا کہ خواتین پر تشدد انسانی حقوق کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں اس کی مختلف اقسام دیکھنے میں ملتی ہیں، گھریلو تشدد سے لے کر دفاتر میں ہراساں کرنے، غیرت کے نام پر قتل اور ظلم و زیادتی کے تمام معاملات جینڈربیسڈ وائیلنس میں آتے ہیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ جینڈر بیسڈ وائیلنس جرائم مختصر اور طویل دورانیے کے ہوتے ہیں جو ایسے جرائم کا شکار افراد کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے معاشرے کے ہر فرد کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانا ہے، اس حوالے سے ریاست کا کردار بہت اہم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین پر تشدد کے حوالے سے صرف قانون بنا دینے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ ان قوانین پر عملدرآمد کرانا ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں