The news is by your side.

Advertisement

سندھ میں ایک لاکھ اساتذہ پڑھانے اسکول جاتے ہی نہیں: وزیر تعلیم کا انکشاف

سندھ میں 504 مقامات ثقافتی ورثہ قرار دینے کی سفارشات منظور

کراچی: سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ صوبے میں ایک لاکھ اساتذہ اسکولوں میں پڑھاتے ہی نہیں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ میں شعبہ تعلیم کی بد حالی کے حوالے سے وزیر تعلیم نے بڑا انکشاف کیا ہے، سردار شاہ نے بتایا کہ ایک لاکھ اساتذہ ایسے ہیں جو پڑھانے کے لیے اسکول جاتے ہی نہیں۔

وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ سندھ میں اسکولوں میں صرف 34 ہزار اساتذہ پڑھاتے ہیں، جب کہ تعداد ایک لاکھ 34 ہزار ہے۔

سید سردار شاہ نے کہا کہ ایسے اساتذہ کو نکالنا چاہتے ہیں لیکن اپوزیشن معاہدہ کرے کہ نہ پڑھانے والے اساتذہ کو نکالنے پر احتجاج نہیں کیا جائے گا۔

دریں اثنا، چیف سیکریٹری سندھ کی زیر صدارت کلچر ایڈوائزری کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں مختلف مقامات کو ثقافتی ورثہ قرار دینے سمیت اہم ایجنڈا پیش کیا گیا۔

سیکریٹری ثقافت نے کہا کہ صوبے کے مختلف اضلاع کے 603 مقامات کا سروے کیا گیا، سروے کے بعد 504 مقامات ثقافتی ورثہ قرار دینے کی سفارشات منظور کی گئی ہیں۔

اجلاس میں اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس کو 5 اسٹار ہوٹل بنانے کی درخواست پر غور کیا گیا، چیف سیکریٹری نے ہدایت کی کہ محکمہ ثقافت اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس کا دورہ کر کے سفارشات تیار کرے۔

ایڈوائزری کمیٹی نے خالق دینا ہال کے ایم سی سمیت دیگر عمارات کی بحالی کی بھی منظوری دی، اجلاس میں پارسی کالونی کو تاریخی رہایشی کالونی قرار دیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں