site
stats
پاکستان

سرگودھا: 20 افراد کے قتل میں ملوث ملزمان کا ریمانڈ منظور

سرگودھا: صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں درگاہ پر 20 افراد کے قتل کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کر لیا گیا۔ لرزہ خیز واقعے میں ملوث 3 ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر کے پولیس کی تحویل میں دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سانحہ سرگودھا کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں تھانہ صدر میں درج کر لیا گیا۔ مقدمے میں قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

مقدمے میں مرکزی ملزم عبد الوحید سمیت 6 افراد کے نام شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم کاشف کو زخمی حالت میں اسپتال کے بیڈ پر ہتھکڑی لگا کر حراست میں لیا گیا ہے۔

عدالت نے واقعے میں ملوث 3 ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر کے پولیس کی تحویل میں دے دیا۔

مرکزی ملزم عبد الوحید نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔ اس کا مؤقف تھا کہ جن لوگوں کو اس نے قتل کیا ہے ان سے جان کا خطرہ تھا۔ میرے پیر کو بھی ان ہی لوگوں نے زہر دے کر قتل کیا۔

واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ

صوبائی وزیر اوقاف زعیم قادری نے لاہور میں تصوف سیمینار میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرگودھا سانحہ پر پنجاب حکومت نے انکوائری مکمل کرلی ہے اور رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کو روانہ کردی گئی ہے۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ واقعہ خالصتاً ذاتی دشمنی کی بنا پر پیش آیا۔ متولی نے درگاہ پر اپنا قبضہ جمائے رکھنے کے لیے لوگوں کو قتل کیا۔ وہ اس سے پہلے درگاہ کے سجادہ نشین کو بھی قتل کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قتل کے ہولناک واقعہ کے بعد سرگودھا کی درگاہ سمیت صوبے بھر میں تمام متنازعہ درگاہوں کو محکمہ اوقاف کی تحویل میں دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: درگاہ میں لاٹھیوں اور چھریوں کے وار سے 20 افراد قتل

یاد رہے کہ گزشتہ روز سرگودھا کے نواحی علاقے چک نمبر 95 شمالی میں درگاہ پر متولی عبد الوحید نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر خواتین سمیت 20 افراد کو لاٹھی اور چاقوؤں کے وار سے قتل کردیا تھا۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ ملزم عبدالوحید نے جمعہ سے درگاہ میں لوگوں کو قتل کرنا شروع کیا تھا، کچھ مقتولین کی لاشیں 2 دن پرانی تھیں۔

ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ درگاہ اوقاف میں رجسٹرڈ نہیں، واقعہ کی ذمہ دار حکومت نہیں۔

ادھر سرگودھا کے مقامی رکن صوبائی اسمبلی چوہدری عبد الرزاق کا کہنا ہے کہ علاقے میں ایسے مزید کئی مزار موجود ہیں۔

متولی کے ہاتھوں قتل ہونے والے تمام افراد کی لاشیں ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردی گئیں تھیں جن میں بعض کی تدفین کردی گئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top