شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے: او پی سی ڈبلیو: Syria
The news is by your side.

Advertisement

شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے: او پی سی ڈبلیو کا قوی امکان

دمشق: کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے عالمی ادارے ’او پی سی ڈبلیو‘ نے تحقیق کے بعد یہ قوی امکان ظاہر کیا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ سال شام کے شہر دوما میں دو حملے گیے تھے جس سے متعلق یہ تشویش تھا کہ یہ حملے کیمیائی ہوسکتے ہیں تاہم اب تحقیق کے بعد تقریباً ثابت ہوا ہے کہ حملے کیمیائی تھے۔

او پی سی ڈبلیو کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ گزشتہ برس شام میں ہوئے حملوں میں سارین اور کلورین جیسے مہلک کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ حملے کے بعد جاعے وقوعہ سے نمونے اکھٹے کیے گئے تھے بعد ازاں لیب میں جدید تحقیق کی جس سے تقریباً یہ ثابت ہورہا ہے شام میں حملے کیمیائی تھے۔


شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے ادارے کا معائنہ


علاوہ ازیں اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان ہتھیاروں کا استعمال کس نے کیا تھا۔ شامی حکومت اور باغی گروہ اس کارروائی کے لیے ایک دوسرے کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ رواں ماہ 7 اپریل کو شام کے علاقے دوما میں کیمائی حملے کیے گئے تھے جس کے نتیجے میں بچوں سمیت درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے بعد ازاں امریکا اور اس کے اتحادیوں نے حملے کا الزام براہ راست روس پر عائد کیا تھا۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ شامی شہر دوما میں مبینہ کیمیائی حملوں کی تحقیقات کی خاطر او پی سی ڈبلیو کے معائنہ کار چھان بین کے لیے وہاں پہنچے تھے جس کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ سات اپریل کو ہونے والے حملے میں آیا کسی ممنوعہ کیمیکل مواد کا استعمال کیا گیا تھا یا یہ محض جھوٹے دعوے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں