پاکستان امداد کی بجائے تجارت کو ترجیح دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ، سرتاج عزیز -
The news is by your side.

Advertisement

پاکستان امداد کی بجائے تجارت کو ترجیح دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ، سرتاج عزیز

اسلام آباد : وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ ہے کہ بھارتی رویئے کے باعث جہاں سارک سربراہ کانفرنس کا انعقاد ملتوی ہوئی وہیں دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا، پاکستان امداد کی بجائے تجارت کو ترجیح دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 19ویں پائیدار ترقی کے موضوع پر کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سارک کانفرنس کے ملتوی ہونے سے اقتصادی، سماجی اور مختلف شعبوں میں پیش رفت کے راستے رکے، ان کا مؤقف تھا کہ علاقائی تعاون اور باہمی تجربات سے استفادے سے خطے میں ترقی اور استحکام لایا جا سکتا ہے۔

مشیر خارجہ نے کہا کہ پائیدار ترقی کیلئے قومی اور صوبائی سطح پر مربوط تعاون جاری ہے ، سیاسی عزم اور سنجیدگی موجود ہے، اقتصادی ترقی کو یقینی بنائیں گے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ غربت کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات ہماری توجہ کے منتظر ہیں ، وسائل کے درست استعمال اور بہتر اقتصادی اور معاشی ترقی سے غربت کا خاتمہ ممکن ہے ، غربت کے خاتمے کیلئے مساوی تعاون اور غیر امتیازی سلوک ضروری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امداد کی بجائے تجارت کو ترجیح دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے کیونکہ امداد تو ختم ہوسکتی ہے مگر تجارت کو فروغ ملتا ہے، بنیادی تعلیم ، صحت اور سماجی استحکام سب کا حق ہے، عام آدمی پر سرمایہ کاری کرکے اور انہیں حق دے کر بہت سے تنازعات جنم لینے سے پہلے ختم ہوسکتے ہیں، پاک چین اقتصادی راہداری دونوں ممالک کے مثالی تعلقات کی عکاسی ہے، جس سے پورے خطے کو فائدہ ہوگا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر زاہد حامد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کیلئے مشترکہ اور منظم کوششیں درکار ہیں، غذائی ضروریات ، تعلیم ، صحت، اور اقتصادی استحکام بنیادی حق ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ایس ڈی جی کا ایجنڈا پاکستان کے اقتصادی ایجنڈے کا بنیادی محور ہے، فوڈ اور انرجی سکیورٹی کیلئے جنگی بنیادوں پر کام جاری ہے، ویژن 2025 ء کے ساتھ ساتھ موسمی و ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی قومی پالیسی وضع کی گئی ہے۔

ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد سلیری نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت مستحکم جمہوریتوں میں بھی شدت پسند سوچ اور رجحانات تشویشناک ہے ، بھارت کے غیر لچکدار رویئے کے باعث سارک کانفرنس ملتوی ہونا افسوسناک ہے، پائیدار ترقی کیلئے ایس ڈی جی کا حصول ازحد ضروری ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں