The news is by your side.

Advertisement

فاٹا اصلاحات پر عمائدین اور علما سے مشاورت کی گئی: سرتاج عزیز

اسلام آباد: مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ فاٹا اصلاحات پر عمائدین، علما اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے مشاورت کی گئی۔ اصلاحات کے تحت فاٹا ڈیولپمنٹ کمیٹی بنانے کا بھی فیصلہ ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کی زیرصدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ نے فاٹا اصلاحات کمیٹی کی سفارشات کی اصولی منظوری دے دی۔

اجلاس کے بعد اصلاحات کمیٹی کے رکن اور مشیر خارجہ برائے وزیر اعظم سرتاج عزیز، رکن قومی اسمبلی عبد القادر بلوچ سمیت دیگر ارکان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فاٹا اصلاحات کے لیے مختلف علاقوں میں کئی جرگے کیے گئے۔ ان جرگوں میں 3 ہزار 500 سے زائد عمائدین شریک ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ فاٹا اصلاحات پر عمائدین، علما اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے مشاورت بھی کی گئی۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ فاٹا اصلاحات کے لیے کمیٹی 6 ارکان پر مشتمل تھی۔ کمیٹی نے مختلف تجاویز پر مشاورت کے بعد گزشتہ سال رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کی۔ زیادہ تر ارکان نے تجویز دی کہ فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ پیش کرنے کے بعد بھی کمیٹی نے مشاورتی عمل جاری رکھا۔ چاہتے تھے کہ تمام فریقین سے رائے لی جائے۔

سرتاج عزیز نے بتایا کہ فاٹا میں ایف سی آر قوانین کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فاٹا کی معاشی ترقی کے لیے 10 سال کا پروگرام بنایا جائے گا۔ ایف سی آر قوانین کو رواج قوانین سے تبدیل کیا جارہا ہے۔ فاٹا کو 5 سال میں قومی دھارے میں لایا جائے گا۔

مشیر خارجہ نے بتایا کہ فاٹا ڈیولپمنٹ کمیٹی بنانے کا بھی فیصلہ ہوا ہے۔ گورنر خیبر پختونخواہ فاٹا ڈیولپمنٹ کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے۔

ان کے مطابق فاٹا میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہیں خیبر پختونخواہ ملازمین کے برابر ہوں گی۔ فاٹا کے عوام بھی بیت المال اور بینظیر انکم سپورٹ فنڈ سے مستفید ہوسکیں گے۔ فاٹا کی سیکیورٹی کے لیے لیویز اہلکار بھرتی کیے جائیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں