The news is by your side.

Advertisement

خوشحال اورپرامن افغانستان ہی پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے، سرتاج عزیز

اسلام آباد : مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ ایک پرامن اور خوشحال افغانستان ہی پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ برسلز میں ہونے والے اجلاس میں مہاجرین اور افغانستان میں ترقی کاعمل ایجنڈے کا اہم نکتہ ہو گا۔ یہ بات انہوں نے پاک افغان باہمی مذاکرات کے پانچویں دور سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پرافغان سفیر حضرت عمر زاخیل وال کا کہنا تھا کہ پاک افغان تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے مذاکرات اہم ہیں۔ پاک افغان تعلقات میں مہاجرین کا نکتہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستانی قوم نے افغان مہاجرین کے لئے دل کھول کر مہمان نوازی کی۔ مہاجرین نے خود اس زندگی کا انتخاب نہیں کیا جو وہ گزار رہے ہیں بلکہ انہیں حالات نے مجبور کیا۔

افغان سفیر نے کہا کہ افغانستان کے مسئلے کا واحد حل امن سے وابستہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان مل کرامن کے لئے کوشیشیں کر رہے ہیں۔ افغان امن عمل کو تمام مںمالک اور بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل ہے۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان گزشتہ دنوں کابل میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ پاکستان نے 7 جولائی کو مری میں ہونے والے براہ راست مذاکرات میں مدد دی- طالبان نے ابھی تک مذاکرات کا مثبت جواب نہیں دیا۔

کابل سے افغان طالبان کے لئے ایک واضح مثبت پیغام آنا چاہئیے۔ سرتاج عزیزکا کہنا تھا کہ افغانستان پاکستان مخالف بیانات امن عمل پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ کچھ ممالک یہ تاثر دے رہے ہیں کہ جیسے پاکستان افغان طالبان کو مکمل طور پر کنٹرول کر رہا ہے۔

علاقائی ممالک کو منسلک کرنے کا خواب افغانستان میں امن کے قیام کے بغیر ناممکن ہے۔ ایک پرامن اور خوشحال افغانستان ہی پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ برسلز میں ہونے والے اجلاس میں مہاجرین اور افغانستان میں ترقی کاعمل ایجنڈے کا اہم نکتہ ہو گا۔ پاک افغان ملکر دراندازی پر قابو پا سکتے ہیں۔

گلبدین حکمت یار کے گروپ نے امن معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ توقع ہے دیگر گروپ بھی امن معاہدوں پر جلد دستخط کریں گے۔ دونوں ممالک کے سمیان اعتماد کے فقدان نے مہاجرین سمیت دیگر شعبوں پر بھی منفی اثر ڈالا ہے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں