سعودی عرب میں خواتین سپاہیوں کو بھرتی کیا جائے گا saudi-arab
The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب میں خواتین سپاہیوں کو بھرتی کیا جائے گا

ریاض : سعودی عرب نے خواتین سپاہیوں پر مشتمل دستے کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ملک کے سات بڑے صوبوں میں سیکیورٹی فورسز میں سعودی خواتین کی بھرتیوں کا عمل جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی حکومت نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے ریاض، مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ، قصیم، عسیر، باحہ اور شرقیہ میں خواتین سپاہیوں کے لیے اسامیوں کا اعلان کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودیہ عرب میں خواتین کو قدیم روایتوں کے برعکس نئے مواقع فراہم کiے جارہے ہیں اور خواتین کی صلاحیتوں سے فایدہ اُٹھانے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

جنرل ڈائریکٹریٹ آف پبلک سکیورٹی کا 7 صوبوں میں خواتین کے لیے سپاہی کے منصب کی عسکری اسامیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ درخواست دینے والی خاتون کا مقامی ہونا، مملکت میں پرورش پانا، کم از کم تعلیم انٹرمیڈیٹ اور عمر کا 25 سے 35 برس تک ہونا لازمی ہے، تحریری امتحان، انٹرویو اور میڈیکل ٹیسٹ میں کامیاب ہونے والی امیدواروں کو سخت ٹریننگ کے عمل سے بھی گزرنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کسی قسم کے جرائم یا قانون کی خلاف ورزی میں ملوث خاتون، پہلے سے کسی سرکاری ادارے کی ملازمہ، کسی غیر ملکی سے شادی کرنے والی سعودی خاتون، فربہ خواتین، 155 سینٹی میٹر سے کم قد اور شناختی کارڈ نہ رکھنے والی خواتین اس ملازمت کے لیے نااہل تصور کی جائیں گی اور اس سلسلے میں کسی نرمی یا لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2023 کے تحت خواتین کو خصوصی اختیارات اور مراعات دی جا رہی ہیں جب کہ کاروبار یا ملازمت کرنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی بھی کا عمل بھی جارہی ہے جس سے قدامت پسند سعودی عرب کا قدرے روشن چہرہ ابھر آکر سامنے آرہا ہے جسے بین الااقوامی امور پر مہارت رکھنے والے تجزیہ کار خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں