The news is by your side.

Advertisement

سات لاکھ تارکین وطن نے سعودی عرب چھوڑ دیا، 75 ہزار پاکستانی شامل

ریاض: سعودی عرب میں غیر قانونی تارکین وطن کو دی گئی ایمسنٹی اسکیم سے 7 لاکھ افراد نے فائدہ اٹھالیا اور اپنے وطن روانہ ہوگئے،  ان میں 75 ہزار سے زائد پاکستانی شامل ہیں، سعودی حکام نے مزید 46 ہزار افراد کی تلاش شروع کردی جنہیں ملک بدر کرکے سعودی عرب آنے پر ہمیشہ کے لیے پابندی عائد کردی جائے گی۔

سعودی گزٹ کے مطابق سعودی عربیہ کے پاسپورٹ آفس جوازات کے ڈائریکٹر جنرل سلیمان بن عبدالعزیز الیحییٰ نے بتایا کہ یہاں غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کے لیے جاری کی گئی ایمنسٹی اسکیم کے تحت 7 لاکھ سے زائد غیر قانونی مقیم افراد باعزت طریقے سے اپنے وطن روانہ ہوچکے ہیں۔

فنگر پرنٹس نہیں لیے گئے

ڈائریکٹر جنرل کے مطابق ان افراد کو بلیک لسٹ نہیں کیا گیا اور ان کے فنگر پرنٹس نہیں لیے گئے جس کے بعد اب وہ اس قابل ہیں کہ دوبارہ قانونی طریقے سے سعودی عرب آسکیں۔

75 ہزار پاکستانی شہری بھی شامل

اسی ضمن میں خلیج ٹائمز نے بتایا تھا کہ 75 ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں نے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے سفارت خانے سے رابطہ کیا تھا


یہ پڑھیں: سعودی عرب ایمنسٹی اسکیم: 75 ہزار پاکستانیوں کا سفارت خانے سے رابطہ


46 ہزار افراد کی تلاش

ایمنسٹی اسکیم میں مزید توسیع نہیں کی گئی تاہم سلیمان بن عبدالعزیز نے سعودی گزٹ سے بات کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس اسکیم کے اگلے مرحلے میں تقریبا 46 ہزار مزید افراد اپنے وطن بھیجے جائیں گے جنہیں تلاش کیا جارہا ہے ان افراد کے فنگر پرنٹس لیے جائیں گے اور انہیں بلیک لسٹ کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی بڑی تعداد کا تعلق افریقا، بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان، ایتھوپیا، سوڈان اور دیگر ممالک سے ہے۔


اسی سے متعلق: ایمنسٹی اسکیم: 5 لاکھ 72 ہزار غیر قانونی مقیم مستفید


واضح رہے کہ ایمنسٹی اسکیم تین ماہ تک جاری رہی جس میں ایک ماہ کی توسیع کی گئی بعدازاں 24 جولائی کو یہ اسکیم ختم ہوگئی، ایمنسٹی اسکیم کے اجرا سے قبل لگائے گئے ایک اندازے کے مطابق 10 لاکھ کے قریب افراد غیر قانونی طور پر سعودی عرب میں موجود ہیں۔

بڑا کریک ڈاؤن

اب جن 46 ہزار افراد کو سعودی حکام تلاش کررہے ہیں ان کے لیے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا جارہا ہے جس میں پکڑے گئے افراد کو ملک بدر کرنے سے قبل جرمانے اور سزاؤں کا بھی سامنا کرنا ہوگا جب کہ ان کے فنگر پرنٹس لے کر بلیک لسٹ افراد کی فہرست میں شامل کردیے جائیں گے جس کے بعد انہیں آئندہ سعودی عرب آنے کا ویزا نہیں ملے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں