The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب کا ایران پر براہ راست فوجی مداخلت کا الزام

ریاض : سعودی عرب نے ایران پربراہ راست فوجی مداخلت کا الزام عائد کردیا اور کہا کہ ایران کی یمن کو میزائل کی فراہمی براہ راست جنگی جرم ہے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالات کشیدہ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، سعودی ولی عہدشاہ سلمان نے برطانوی وزیرخارجہ بورس جانسن سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے  ٹیلی فونک رابطے میں ایران کے خلاف تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ایران کی یمن کومیزائل کی فراہمی براہ راست جنگی جرم اورخطے میں عدم استحکام کا باعث ہے۔

امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے ایران پر سعودی الزامات کی تائید کی ہے۔

دوسری جانب ایران نے سعودی عرب کے براہ راست فوجی مداخلت کے الزامات کومسترد کردیا ہے۔


مزید پڑھیں : ریاض، حوثی باغیوں کا ایئرپورٹ پر میزائل حملہ


یاد رہے کہ حوثی باغیوں کی جانب کنگ خالد ائیرپورٹ پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا گیا تھا ، جسے سعودی ایئر ڈیفنس نے ناکام بنادیا تھا تاہم حملے سے کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔

باغیوں کے ترجمان نے عرب میڈیا سے بات کرتے ہوئے میزائل حملے کا دعوی کرتے ہوئے بتایا تھا کہ 800 کلومیٹر تک مار کرنے والے برقان ایچ ٹو نامی میزائل داغا گیا ہے جو اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب رہا جبکہ حملے کی ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی۔

بعد ازاں سعودی وزارت داخلہ نے حکومت مخالف مطلوب یمنی رہنماؤں اور سعودی عرب کے خلاف دہشتگردی کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں ملوث چالیس افراد کی فہرست جاری کی تھی۔

سعودی وزارت داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ ان مطلوب افراد کی گرفتار ی میں مدد دینے یا ان کے ٹھکانے کی اطلاع دینے والوں کو بھاری معاوضہ انعام میں دیا جائے گا۔

فہرست کے مطابق سب سے بڑی رقم 30ملین ڈالر حوثی باغیوں کے سربراہ عبد الملک حوثی پر رکھی گئی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں