The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: نجی شعبے کے کاروباروں کے لیے بڑا ریلیف

ابوظبی: کرونا وائرس کی وبا کے باعث سعودی عرب نے کاروباروں کو اجازت دی ہے کہ وہ قرضوں کی ادائیگی ایک سال تاخیر سے کریں۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب نے کو وِڈ 19 کی وبا سے متاثر ہونے والے کاروباروں کے لیے بڑی سہولت دے دی ہے، کرونا کی عالمگیر وبا سے کاروباروں پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے سعودی عرب نے ایک سال کے لیے نجی شعبے کے قرضوں کی واپسی مؤخر کر دی۔

اس اقدام میں رواں سال کارپوریٹ سسٹین ایبل سپورٹ پروگرام کے لیے دستخط کرنے والے تمام اداروں پر واجب الادا قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی ملتوی ہونا بھی شامل ہے، جس کی رقم مجموعی طور پر 670 ملین سعودی ریال بنتی ہے۔

مزید برآں، قرضے مؤخر کرنے کا یہ اقدام ان قرضوں تک بھی وسیع کیا جائے گا جو مذکورہ پروگرام کے ذریعے ہیلتھ اور ایجوکیشن سیکٹرز کو دیے گئے ہیں، جب کہ حالیہ اعلان سے 192 کاروبار مستفید ہو رہے ہیں۔

سعودی حکومت کی جانب سے نجی شعبے کے لیے ریلیف اقدامات اب مجموعی طور پر تقریباً 61 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ان میں کچھ سرکاری واجبات کی چھوٹ اور التوا (مجموعی طور پر 18.6 بلین ڈالرز)، بینکاری اور ایس ایم ای سیکٹرز کو سہارا دینے کے لیے 13.3 بلین ڈالرز کا پیکیج، نجی شعبے کو دیے جانے والے سرکاری واجبات کی بر وقت ادائیگی یقینی بنانے کے لیے 13.3 بلین ڈالرز کا ایک اور پیکیج، اور نجی شعبے میں 60 فی صد سعودی شہریوں کی تنخواہوں کے لیے سبسڈی (فی ملازم فی مہینہ 9 ہزار ریال تک) شامل ہے۔

اس کے علاوہ ٹیکس سے متعلق بھی متعدد اقدامات ہیں، جن میں ٹیکس گوشوارے جمع کرانے اور ان کی ادائیگی کے لیے ڈیڈ لائن میں توسیع شامل ہے۔

مرکزی بینک کی جانب سے لیکویڈیٹی بڑھانے اور بینکوں کی نجی شعبے کے لیے قرضوں کی سہولیات کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے بینکنگ سیکٹر کو 13.3 بلین ڈالرز جاری کر دیے گئے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں