The news is by your side.

سعودی عرب نے قانون میں بڑی ترمیم کردی

ریاض : سعودی عرب نے شہریت دینے کے قانون میں بڑی تبدیلی کردی، جس کے بعد شہریت دینے کا اختیار ولی عہد اور وزیر اعظم کے پاس چلا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں شہریت دینے کے قانون آرٹیکل آٹھ میں ترمیم کردی گئی ، جس کے تحت شہریت دینے کا اختیار وزیرِ اداخلہ سے لے کر ولی عہد کو دے دیا ہے۔

سعودی میڈیا نے بتایا کہ سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کی ہدایت پر شہریت دینے کے قانون میں ترمیم متعارف کرائی گئی۔

قانون میں درج جملے وزیر داخلہ کے فیصلے کے ذریعے کو وزیر داخلہ کی تجویز پر اور وزیراعظم کے حکم سے سے بدل دیا گیا۔

اس قانون کے تحت سعودی شہریت غیر ملکی باپ اور سعودی ماں کے بچے کو ملک میں پیدا ہونے پر چند شرائط مکمل کرنے پر دی جاسکے گی۔

نئے اصول میں سعودی خواتین کے بچے جنہوں نے غیر ملکیوں سے شادی کی ہے، اب 18 سال کی عمر کے بعد شہریت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

شرائط میں شہریت کے لیے قانونی عمر کو پہنچنے، مملکت میں مستقل رہائش، اچھے اخلاق اور کردار کا ہونا اور کسی جرم میں ملوث نہ ہونا شامل ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں