The news is by your side.

Advertisement

کورونا ویکسین : اقوام متحدہ میں سعودی عرب کو بڑا اعزاز مل گیا

شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے کہا ہے کہ ’سعودی عرب کورونا ویکسین تیار کرنے والا علاقائی مرکز بن جائے گا اور اس کے لیے تیار ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ڈاکٹر الربیعہ نے ایس وقت کی ہے جبکہ مشرق وسطی، ایشیا اور افریقہ کے ممالک کوویڈ 19 کورونا وائرس کی وبا سے مشکلات سے دوچار ہیں، ان ملکوں کو ویکسین کی رسد کے حوالے سے مسائل کا بھی سامنا ہے۔

ڈاکٹر الربیعہ اٹلی کے دفتر خارجہ اور اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام کی میزبانی میں منعقدہ جی 20 کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے جو اٹلی میں ویکسین کی لاجسٹک خدمات کے موضوع پر ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  کورونا وبا نے جو چیلنج ہمیں دیا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ انسانی جانوں کو بچانے کے لیے منظم اور مربوط جدوجہد کریں‘۔

انہوں نے کہا کہ  ہمیں احساس ہے کہ پوری دنیا کو غیر متوقع چیلنج درپیش ہیں۔ وبا نے دنیا بھر کے ملکوں میں معیشت، صحت، تعلیم اور سماجی ڈھانچے کو تباہ کن نقصانات پہنچائے ہیں‘۔

الربیعہ نے کہا کہ ویکسین کی رسد میں بڑا تضاد ہے۔ بیشتر ویکسینوں کی خوراکیں گنے چنے ملکوں تک پہنچی ہیں, اس کا خمیازہ بیشتر ممالک کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ کئی ممالک ایسے ہیں جہاں وبا سے متاثرین کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے۔ ہسپتالوں میں مریض زیر علاج ہیں اور اموات ہورہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ’ سعودی عرب دوا سازی کے سلسلے میں علاقائی انداز اپنانے کی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ مشرق وسطی، ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں دوا سازی کا علاقائی نظام قائم ہو۔

کووڈ ویکسین کی علاقائی پیداوار نہ صرف یہ کہ مشرق وسطی، ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں وبا کو قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ اس کی بدولت روزگار کے مواقع بھی حاصل ہوں گے۔ علاقائی صحت نگہداشت کا نظام بھی مضبوط ہوگا‘۔

ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اپنے وسائل اور استعدداد کی بدولت دوا سازی اور ادویہ کی ترسیل کا علاقائی مرکزبن سکتا ہے۔ ہمارے یہاں اس قسم کی سہولتیں مہیا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ’ مملکت نے وبا کے سر ابھارنے پر وبا سے نمٹنے کے لیے 713 ملین ڈالر لگائے تھے جبکہ شاہ سلمان مرکز، یمن، شام، سوڈان کے شہریوں، بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں، افریقہ، مشرق وسطی اور ایشیا میں پناہ گزینوں کی مدد کر رہا ہے۔‘

 ہمیں انسانی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔جب تک سب لوگ وبا سے محفوظ نہیں ہوں گے ہم میں سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہوسکتا، مستقبل میں بھی یہ اصول لاگو ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں