The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب : سگریٹ پینے پر کتنی سزا ہوگی؟ نیا قانون منظور

ریاض : سعودی حکومت نے تمباکو نوشی کی روک تھام کیلئے قانون میں ترمیم کی منظوری دے دی، جس کے تحت سگریٹ پینے والے افراد مخصوص مقامات سے مقررہ حد تک دور رہیں گے، خلاف ورزی پر جرمانہ عائد ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے انسداد تمباکو نوشی قانون میں ترمیم کی منظوری دی ہے۔
سعودی سرکاری جریدے میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں13 عوامی مقامات ایسے ہیں جہاں پر سگریٹ پینے پر پابندی عائد ہے تاہم ترمیمی ایکٹ میں سگریٹ پینے والا شخص اور ممنوعہ مقام کے درمیان کم سے کم فاصلہ 10 میٹر مقرر کیا گیا ہے۔

جن مقامات پر سگریٹ پینا ممنوع ہے ان میں مساجد اور اطراف کے علاقے، تعلیمی اور تربیتی ادارے، حکومتی اور نجی دفاتر، فلاحی ادارے اور انجمن، تاریخی مقامات اور عجائب گھر، شادی ہالز، کانفرنس ہالز، حکومتی اور نجی طبی ادارے، تمام ذرائع نقل و حمل، بس اسٹینڈز، ریلوے اسٹیشنز اور ایئر پورٹس اور دیگر پبلک مقامات جیسے پارکس ریسٹورنٹس وغیرہ شامل ہیں۔

ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ قانون کیک خلاف ورزی کرنے والے افراد کیخلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے ان پر 200ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
ترمیمی بل میں مزید کہا گیا ہے کہ تمباکو نوشی کی مصنوعات کی تیاری اور اس کی پیکنگ کو بہترین کوالٹی اور معیار کے مطابقکیا جائے، اس کے علاوہ تمباکو کی کاشت اور اس کی تیاری سے متعلق قانون کی خلاف ورزی پر20 ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جائےگا۔

سگریٹ نوشی کے مقامات پر18 برس سے کم عمر بچوں کے داخلے پر پابندی ہوگی اور ان بچوں کو سگریٹ فروخت کرنا بھی قانون شکنی میں شمار اور قابل سزا ہوگا، وینڈنگ مشینوں کے ذریعے سگریٹ کی فروخت پر بھی پابندی ہو گی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں