دمام: اقامہ نہ لگنے پر 500 پاکستانی پھنس گئے، دفتر خارجہ خاموش -
The news is by your side.

Advertisement

دمام: اقامہ نہ لگنے پر 500 پاکستانی پھنس گئے، دفتر خارجہ خاموش

دمام : سعودی عرب میں کمپنی کی جانب سے اقامہ نہ لگنے پر پانچ سو سے زائد پاکستانی پھنس گئے اور کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، متاثرین کو چھ ماہ سے تنخواہ نہیں ملی،فاقے کرنے لگے، چار متاثرین انتقال بھی کرگئے  لیکن دفتر خارجہ تاحال خاموش ہے۔

تفصیلات کے مطابق دیار غیر میں رزق تلاش کرنے والے رُل گئے ۔ سعودی کمپنی کی ہٹ دھرمی نے پانچ سو سے زائد پاکستانیوں کو دمام میں پھنسا دیا۔

کمپنی کی جانب سے اقامہ نہ لگنے پر پاکستانی شہری ایک کیمپ میں چھ ماہ سے زندگی گزار رہے ہیں۔ سعودی عرب کے شہر دمام میں پھنسے پاکستانیوں کی زندگی بد سے بدتر ہو گئی۔


500 stranded Pakistani workers in Saudi Arabia… by arynews

کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات ختم ہو گئیں، گھروں میں بھی فاقے ہونے لگے، متاثرین بھوک سے بچ گئے تو بیماری ان کی جان لے لے گی۔

پاکستانی سفارتخانہ بھی ان کی مدد کو تیار نہیں۔ ایک پاکستانی شہری نے اے آر وائی نیوز کے ذریعے حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں وہاں سے نکالا جائے۔ وہ بھوکے مر رہے ہیں، پاکستانی شہریوں کو کیمپ میں نہ کھانا میسر ہے نہ ہی چھ ماہ سے تنخواہیں ملی ہیں۔

متاثرین نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ چار پاکستانی دل کادورہ پڑنے سے کیمپ میں ہی انتقال کرچکے ہیں،اجازت نامہ نہ ہونے کے باعث کہیں آجا بھی نہیں سکتے، کمپنی کا مالک کہتا ہے میرے پاس پیسہ نہیں ہے، ہم بھوکے مررہے ہیں، دعا کرنے کا کہا جاتا ہے کوئی حل نہیں نکالا جارہا،حکومت پاکستان ہماری واپسی کا بندوبست کرے۔

ایک متاثرہ شخص نے کہا کہ بہت مشکل میں ہیں، مسئلہ ایسے حل ہونے والا نہیں ہے ، حکومت ہمیں مشکل سے نکالے۔

حل کیلئے سرتاج عزیز اور طارق فاطمی کو خطوط لکھ چکا، مراد سعید

 

پی ٹی آئی کے رہنما مراد سعید نے اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں پھنسے پاکستانیوں کی امداد کے لیے کوششیں کررہا ہوں، مسئلے کے حل کے لیے مشیر خزانہ سرتاج عزیز اور معاون خصوصی برائے خارجہ طارق فاطمی کو بھی خطوط لکھے تاہم مسئلہ حل نہ ہوا، حکومت بھارت کے مدمقابل اپنی کمیونٹی کو تحفظ دینے میں ناکام ہوگئی۔

 

مراد سعید نے کہا کہ سرتاج عزیز نے خط کے جواب میں کہا کہ پاکستانیوں کو اقامے پر کوئی شکایت نہیں۔

دوسری جانب اے آر وائی نیوز نے دفتر خارجہ سے بھی رابطہ کیا لیکن وہاں سے بھی کوئی جواب نہیں ملا، اس معاملے پر دفتر خارجہ تاحال خاموش ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں