The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب : تمام کاروباری افراد کو حکومت کی آخری وارننگ

ریاض : سعودی حکومت نے مملکت کے تمام کاروباری افراد کو متنبہ کیا ہے کہ جنہوں نے اپنی دکانوں یا تجارتی اداروں میں رقوم کی ادائیگی کیلیے ڈیجٹل پیمنٹ سسٹم نصب نہیں کروایا ان کیخلاف قانونی کارروائی کا آغاز کل سے کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی مانیٹری اتھارٹی ساما کی جانب سے دکانداروں کو لازمی ڈیجیٹل ادائیگی سسٹم فراہم کرنے کے لیے پانچویں اور آخری مرحلہ کی ڈیڈ لائن ختم ہونے پرکل سے تفتیش کا آغاز کیا جائے گا۔

اس حوالے سے سعودی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سعودی مانیٹری اتھارٹی ساما کی جانب سے مملکت میں بلا نقدی منصوبے کا آغاز کافی عرصہ قبل کیا گیا تھا جس کےلیے مختلف مراحل کا اعلان کرتے ہوئے دکانداروں اور تاجروں کو مہلت دی گئی تھی کہ وہ اپنی دکانوں اور تجارتی اداروں میں ڈیجیٹل ادائیگی کے سسٹم کو فعال بنانے کے لیے بینکوں میں اکاؤنٹ کھولیں تاکہ وہاں سے دکانوں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگی سسٹم جاری کرایا جائے۔

اس ضمن میں ساما کی جانب سے پانچویں اور آخری مرحلے کے لیے 25 اگست 2020 کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔ اتھارٹی کی جانب سے تمام بینکوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ دکانوں کے اکاونٹ کھولنے اور وہاں ڈیجیٹل ادائیگی سسٹم فراہم کرنے میں کسی قسم کی تاخیر نہ کریں۔

مانیٹری اتھارٹی ساما کی جانب سے بینکوں کو جاری سرکلر میں کہا گیا ہے کہ مملکت کے قومی پروگرام برائے انسداد تجارتی پردہ پوشی کو کامیاب بنانے کےلیے ہر ممکن تعاون کریں۔

قومی پروگرام کے تحت جامع منصوبے پر عمل کرتے ہوئے تجارتی اداروں اور دکانداروں کو اس امر کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ بینکوں میں کھاتے کھولیں جہاں دکانوں میں آنے والی رقم ڈیجیٹل ادائیگی سسٹم کے ذریعے منتقل ہو۔

اس حوالے سے ساما نے مرحلہ وار پروگرام جاری کیا تھا جس میں پہلے مرحلے میں پیٹرول اسٹیشنز مالکان کو اس امر کا پابند کیا گیا تھا کہ وہ ڈیجیٹل ادائیگی سسٹم نصب کرائیں۔

دوسرے مرحلے میں گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس ، ورکشاپس کے شعبے شامل تھے، تیسرے مرحلے میں لانڈری شاپس ، مردانہ سیلون اور خواتین کے بیوٹی پارلرز جبکہ چوتھے مرحلے میں کریانہ اسٹورز کو منتخب کیا گیا تھا۔

بلا نقدی منصوبے کا پانچویں اور آخری مرحلے میں ریسٹورانٹس ، کیٹرنگ سروسز ، فاسٹ فوڈ کی دکانیں ، سی فوڈ کے موٹیلز ،کافی شاپس ، کیفے ٹیریا، فوڈ ٹرکس ، آّسکریم اور جوسز کی دکانیں شامل ہیں جن کےلیے دی گئی مہلت 25 اگست کو ختم ہونے کے بعد ان پر تفتیشی کارروائیاں شروع کی جائیں گی۔

واضح رہے سعودی عرب کا قومی منصوبہ انسداد تجارتی پردہ پوشی کا بنیادی مقصد سعودیوں کے ناموں پر کاروبار کرنے والے غیر ملکیوں کا انسداد ہے۔

مملکت کے قانون تجارت میں سعودیوں کے ناموں پر غیر ملکیوں کا تجارت کرنا منع ہے۔ اس طرح کے کاروبار کو تجارتی پردہ پوشی کہا جاتا ہے جس کے تدارک کے لیے حال ہی میں کابینہ نے سخت سزاوں کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ایسے کاروبار میں ملوث افراد کو پانچ  برس تک قید اور 50 لاکھ ریال جرمانے کی سزا کی قانون منظوری دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ وزارت کی تفتیشی ٹیموں کو احکامات صادر کردیئے گئے ہیں کہ ایسی دکانیں یا تجارتی ادارے جہاں ڈیجیٹل پے منٹ سسٹم کی سہولت فراہم نہیں کی گئی ان کے خلاف تحقیقات کریں اگر سسٹم کی تنصیب میں کسی قسم کی فنی وجوہات یا کی رکاوٹ نہ ہوں تو ایسی دکانوں اور تجارتی اداروں کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے انہیں سیل کردیاجائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں