site
stats
انٹرٹینمںٹ

سعودی عرب میں سنیما پر عائد پابندی ختم ہونے کا امکان

saudi arabia cinema

ریاض: سعودی تاریخ میں پہلی بار خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کے بعد اب سنیما گھروں پر عائد پابندی بھی ختم ہونے کا امکان بڑھ گیا جو کہ دسمبر تک کھل جائیں گے۔

سعودی گزٹ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق سعودی سنیما کمیٹی کے سابق چیئرمین فہد التمیمی نے امید ظاہر کی ہے کہ رواں برس کے اختتام سے قبل یہاں سنیما کھل جائیں گے اور اس بات پر زور دیا کہ وزارت کلچر اور انفارمیشن کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ سنیما گھروں کو بند رکھا جائے۔

یہ پڑھیں: سعودی عرب میں خواتین کو گاڑی ڈرائیو کرنے کی اجازت مل گئی

اپریل میں جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین احمد الخطیب نے خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا تھا کہ آخر کار سعودی عرب میں سنیما کھولنا ہی پڑیں گے تاہم یہ سرکاری اقدامات کے تحت ترقیاتی پروجیکٹس کی تکمیل کے بعد ہی ممکن ہوگا، یہ سب کی بالخصوص معاشرے کے تمام افراد کی خواہش ہے جس کی تکمیل سے انہیں فائدہ ہی پہنچے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کا نقطہ نظر ہے کہ نجی سیکٹر کو فراہم کردہ تفریحات میں بہتری لائی جائے ایسے راستے کے ذریعے جو سعودی اقدار اور اسلامی تعلیمات کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں1970ء میں کچھ سنیما گھر موجو د تھے تاہم اس کے بعد سے آج تک سنیما تاحال بند ہیں لیکن اب رواں برس سنیما گھر کھلنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

سعودی گزٹ کے مطابق حکومت نے اس ضمن میں بوسٹ کنسلٹنٹ گروپ کو یہ ٹھیکا دیا ہے کہ وہ ریاست میں پارک اور تھیٹر کی طرز پر جگہوں کی نشاندہی کرے جہاں سرکاری اور نجی سیکٹر کی شراکت سے سرمایہ کاری کی جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب:‌ طالبات کو یونیورسٹیز میں موبائل کے استعمال کی اجازت

جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین احمد الخطیب نے کہا کہ اتھارٹی کی سرگرمیوں کی بدولت محض 7 ماہ میں سعودی عرب میں 20 ہزار سے زائد نوکریاں پیدا ہوئیں اور ویژن 2030ء کے تحت ہم گزشتہ سال کے ہدف کو بھی پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے پیشگوئی کی کہ تفریح کی مد میں سعودی اخراجات کی شرح 2030ء تک تین گنا زیادہ یعنی 8 تا 9 فیصد ہوجائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے سب سے زیادہ بڑا اور مہذب تفریح منصوبہ ’’تفریحی شہر‘‘ بنانے کا ہے جو کہ دارالحکومت ریاض سے باہر بنایا جائے گا جس میں گالف کورسز، کار ریسنگ ٹریک اور سکس فلیگ تھیم پارک شامل ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top