The news is by your side.

Advertisement

سعودی حکام کی ڈی پورٹ افراد کی واپسی سے متعلق وضاحت

ریاض: سعودی ادارہ جوازات نے مملکت سے ڈی پورٹ کیے جانے والے افراد کے قانون سے متعلق وضاحت پیش کی ہے۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق ایک شخص نے محکمہ جوازات سے دریافت کیا کہ وہ ہروب کیس میں 12 برس قبل ڈی پورٹ کیا گیا تھا، کیا اب واپس سعودی عرب آسکتا ہے؟

ادارہ جوازات کا کہنا ہے کہ امیگریشن قانون میں کی جانے والی تبدیلیوں کے بعد اب وہ غیر ملکی جنہیں ہروب کے کیس میں ڈی پورٹ کیا جاتا ہے، ان پر تاحیات مملکت آنے کی پابندی عائد کردی جاتی ہے۔

ایسے افراد جنہیں سعودی عرب سے کسی بھی الزام میں ڈی پورٹ کیا جاتا ہے، ان پر تاحیات کسی بھی ورک ویزے پر آنے کی پابندی عائد کردی جاتی ہے۔

نئے قانون کے بعد ہر اس شخص کو مملکت کے لیے کام کرنے کے ویزے پر آنے کی تاحیات پابندی عائد کردی گئی ہے جو کسی بھی عرصے میں ڈی پورٹ ہوئے تھے۔

پابندی عائد کیے جانے والے افراد صرف عمرہ اور حج ویزے پر ہی مملکت آسکتے ہیں، اس کے علاوہ کام کے کسی نوعیت کے ویزے پر سعودی عرب نہیں آسکتے۔

نئے قانون کے نفاذ سے قبل ہروب کے کیس میں ڈی پورٹ ہونے والوں پرپابندی کا دورانیہ مختلف ہوا کرتا تھا۔

عام حالات میں یہ پابندی 5 برس کی ہوتی تھی جسے بعد ازاں کم کر کے 3 برس کردیا گیا تھا، تاہم مخصوص کیسز میں تحقیقاتی افسر کی رپورٹ پر پابندی کی مدت کا فیصلہ کیا جاتا تھا۔

گزشتہ برس سے نئے قانون کے بعد سے ہر اس شخص کو مملکت کے لیے کام کرنے کے ویزے پر آنے کی تاحیات پابندی عائد کردی گئی ہے جو کسی بھی عرصے میں ڈی پورٹ ہوئے تھے خواہ وہ ہروب کے کیس میں گئے تھے یا کسی اور مقدمے میں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں