The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: غیرملکیوں کے لیے دروازے بند ہونے لگے؟

ریاض: سعودی عرب میں سعودائزیشن کے تحت مقامی شہریوں کو نوکریاں فراہم کی جارہی ہیں، اب تک تقریباً شعبوں میں غیرملکیوں کے بجائے بڑی تعداد میں سعودیوں کو رکھا جاچکا ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی وژن 2030 کے تحت مملکت میں تمام نجی اور سرکاری شعبوں میں مقامیوں کی تعداد بڑھانا ہے، اسی سبب کئی ایسے عہدے بھی ہیں جہاں غیرملکیوں کی بھرتی ممنوع ہے۔ گزشتہ 2 برس کے دوران انجینیئرنگ اور دیگر شعبوں میں 71 ہزار سے زیادہ سعودیوں کو روزگار دیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں متعلقہ اداروں میں کارکنان کی سعودائزیشن پروگرام کے تحت 71 ہزار سے زیادہ سعودی شہریوں کو 2 برس میں روزگار ملا ہے، اس پروگرام کا آغاز دو سال قبل کیا گیا تھا۔

سرکاری اداروں اور کم از کم 51 فیصد سرکاری شیئرز والی کمپنیوں میں مینٹیننس اور آپریشنل کارکنان کی سعودائزیشن کا منصوبہ نافذ کرانے میں 6 سرکاری ادارے حصہ لے رہے ہیں۔

سعودائزیشن کے حوالے سے حکومت کا بڑا اعلان

مذکورہ بالا ادارے دفتری پیشوں، انجینیئرنگ، تکنیکی، ہنرمندی اور نگرانی والی اسامیوں پر سعودیوں کی تقرری کے مواقع پیدا کررہے ہیں۔ اس ضمن میں دیگر پروگرامز بھی متعارف کرائے جارہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں