The news is by your side.

Advertisement

سعودی معیشت کے حوالے سے آئی ایم ایف کی بڑی پیش گوئی

ریاض : بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے سعودی عرب کے لیے 2022 کی پیشین گوئی پرنظرثانی کی ہے اور کہا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے پیش نظر مملکت کی معیشت میں دُگنا سے زیادہ اضافہ متوقع ہے۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے کہا کہ رواں سال سعودی جی ڈی پی7 اعشاریہ چھ فیصد کی شرح سے بڑھے گی جو گزشتہ برس 2اعشاریہ8 فیصد تھی۔

منگل کو شائع ورلڈ اکنامک آؤٹ لُک میں آئی ایم ایف نے توقع ظاہر کی ہے کہ اگلے سال 2023 میں جی ڈی پی 3 اعشاریہ6 فیصد رہے گی جبکہ اس سے قبل اس کے2 اعشاریہ8 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ہم نے سعودی معیشت کی بڑھوتری کے حوالے سے اپنے تخمینے کو دو اعشاریہ آٹھ فیصد اوپر کیا ہے، یہ اوپیک پلس کی تیل کی پیداوار بڑھانے کے معاہدے اور زیادہ تر تیل کے علاوہ دیگر شعبوں میں پیداوار بڑھنے کے نتیجے میں ہوا ہے۔

آئی ایم ایف نے یہ توقع بھی ظاہر کی ہے کہ سعودی عرب میں مہنگائی کی شرح ڈھائی فیصد رہے جو گزشتہ برس سے کم ہے اور مہنگائی میں کمی کا یہ ٹرینڈ اگلے سال 2023 میں بھی جاری رہے گا۔

دنیا میں گزشتہ برس مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور ترقی یافتہ معیشتوں میں پانچ اعشاریہ سات فیصد مہنگائی جبکہ ابھرتی معیشتوں میں یہ شرح آٹھ اعشاریہ سات فیصد رہی۔

مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا میں سخت عالمی مالیاتی حالات، سیاحت میں کمی اور ثانوی طلب میں وقتاً فوقتاً(مثال کے طور پر یورپ سے) کمی سے بھی خاص طور پر تیل درآمد کنندگان کی ترقی کی رفتار سست ہوجائے گی۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ تیل برآمد کنندگان کے لیے فوسل ایندھن کی زیادہ قیمتیں کچھ فوائد مہیا کرسکتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں