The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب : انجینئروں کی غیر قانونی بھرتی مہنگی پڑسکتی ہے

ریاض : سعودی حکومت نے تمام تعمیراتی کمپنیوں کو سختی سے ہدایت جاری کی ہے کہ وہ غیر رجسٹرڈ انجینئروں کو ہرگز بھرتی نہ کریں بصورت دیگر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

اس حوالے سے سعودی پبلک پراسیکیوشن نے کہا ہے کہ غیر رجسٹرڈ انجینئروں کو بھرتی کرنا یا ان کی خدمات حاصل کرنا جرم ہے، اس قانون کی خلاف ورزی پر10 لاکھ ریال جرمانہ اور کم سے کم ایک سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کسی بھی انجینئر کی رجسٹریشن کے لیے غلط معلومات فراہم کرنا بھی جرم میں شمار کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق پبلک پراسیکیوشن نے کہا ہے کہ تمام تعمیراتی ادارے رجسٹرڈ انجینئروں کی خدمات پر اکتفا کریں، غیر رجسٹرڈ افراد کو بھرتی کرنا جرم میں شراکت داری ہے جس پر قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اسی طرح اجازت نامہ حاصل کیے بغیر اپنے نام کے ساتھ انجینئر لکھنا شہریوں کو گمراہ کرنے کے زمرے میں آتا ہے جو قابل سزا جرم ہے۔

پبلک پراسیکیوشن نے بتایا کہ یہی صورت حال ہر اس شعبے کے ساتھ ہے جس پر کام کرنے کے لیے اجازت نامہ درکار ہے جیسے ڈاکٹر یا اکاؤنٹنٹ وغیرہ۔

ادارے کے ترجمان نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی تعمیراتی ادارہ جب تک حکومتی اجازت نامہ حاصل نہیں کرتا اس وقت تک بحیثیت تعمیراتی ادارہ وہ ذرائع ابلاغ پر اپنی تشہیر بھی نہیں کرسکتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں