The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب کے مقاماتِ مقدسہ کی ذمہ دار شاہی اتھارٹی ہوگی، شاہ سلمان بن عبد العزیز

ریاض : سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز نے متعدد شاہی فرمان جاری کیے ہیں جس کے تحت مکہ شہر اور مقامات مقدسہ کے انتظام کی ذمہ شاہی اتھارٹی ہوگی، جبکہ وفاقی کابینہ میں بھی بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے حاکم شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ہفتے کے صبح متعدد فرامین جاری کیے، جس میں مکہ شہر اور سعودی عرب کے تمام مقامات مقدسہ کے حوالے سے ایک کمشین بنانے کا حکم دیا گیا ہے جس کی سربراہی وزارتی کونسل کے نائب صدر کریں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ شاہی فرمان میں‌ شاہ سلمان بن عبد العزیز نے حکم دیا ہے کہ مقامات مقدسہ اور مکہ کے تمام تر انتظامات کی ذمہ شاہی اتھارٹی ہوگی.

شاہی فرمان میں کہا ہے کہ کمیشن کا سربراہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی معاونت سے کمشین کے امور انجام دے گا. جبکہ اراکینِ کمیشن کا انتخاب کونسل کے سربراہ کی اجازت سے کیا جائے گا.

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ بورڈ آف ڈائریکٹر کے ارکان کی تقرری بھی شاہی فرمان کے تحت عمل آئی ہے، جس میں مکہ ریجن کے گورنر، نائب گورنر، وزیر داخلہ، ڈاکٹر ماجد بن عبداللہ، وزیر حج و عمرہ، وزیر مالیات اور منصوبہ بندی یاسر بن عثمان، انجینئر ابراہیم بن محمد اور ڈاکٹر فھد عبداللہ شامل ہیں.

شاہی فرمان کے مطابق شاہ سلمان بن عبد العزیز نے وزارت ثقافت و اطلاعات کو دو حصوں میں کرتے ہوئے وزارت ثقافت تشکیل دینے کا دیا ہے اور شہزادہ بدر الفرحان کو محکمہ ثقافت کا نیا وزیر مقرر کردیا ہے، جبکہ الشیخ عبد الطیف آل شیخ کو سعودی عرب کے وزیر برائے مذہبی امور کا قلم دان سونپا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ شاہی فرمان کے تحت سعودی عرب کی وفاقی کابینہ میں مزید تبدیلیاں کی گئی ہے جس میں عبد الھادی بن احمد کو وزیر ٹرانسپورٹ کا نائب وزیر جبکہ محمد بن طویع کوسول سرویز کا معاون وزیر تعینات کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ہفتے کے روز جاری ہونے والے ایک اور شاہی فرمان میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز نے جدہ کے آثار قدیمہ کو محفوظ رکھنے کےلیے ’تاریخی جدہ پراجیکٹ‘ کے نام سے ایک ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ جو وزارت ثقافت کے ساتھ مربوط ہوگی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں