The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب : جج کے عہدے پر خواتین کی تقرری

ریاض : سعودی حکومت خواتین کو جج کے عہدے پر تعینات کرنے کے فیصلے پر غور کر رہی ہے اور توقع ہے کہ اس حوالے سے جلد اقدامات کیے جائیں گے۔

اس حوالے سے سعودی سیکریٹری افرادی قوت و سماجی بہبود ہند الزاہد نے کہا ہے کہ جج کے عہدے پر خواتین کی تقرری جلد کی جائے گی، وہ سعودی خواتین کو بااختیار بنانے والی سرکاری مہم پر اظہار خیال کر رہی تھیں۔

سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ہند الزاہد نے کہا ہے کہ میرے علم کے مطابق جج کی تقرری کی کارروائی کئی مرحلوں سے گزرتی ہے، جج بننے کے لیے مطلوبہ ڈگری حاصل کرنا پڑتی ہے۔ اس کے بغیر بات نہیں بنتی تاہم میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ رہی ہوں کہ جج کے عہدے پر خواتین کی تقرری کا فیصلہ جلد ہوگا۔

ذرائع کے مطابق ہندالزاہد نے بتایا کہ وزارت انصاف میں دو ہزار سے زیادہ خواتین کام کررہی ہیں۔ ان میں وثیقہ نویس بھی شامل ہیں۔ اب جج کے عہدے پر خواتین کے تقرر کا لمحہ قریب آ گیا ہے۔

سعودی سیکریٹری افرادی قوت نے بتایا کہ سعودی خواتین مملکت کے تقریباً تمام شعبہ جات میں قدم رکھ چکی ہیں۔ کلیدی عہدوں پر فائز ہوچکی ہیں۔ وزارت تعلیم کی پچاس فیصد کارکن خواتین ہیں جبکہ وزارت صحت میں ملازم خواتین کی تعداد تیس فیصد ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سول سروسز کے سیکٹرز میں خواتین کی شمولیت 39 فی صد سے بڑھ کر 41 فی صد ہو گئی ہے جن کی اکثریت صحت اور تعلیم کے شعبوں میں تعینات ہوئی ہے

انہوں نے کہا کہ سعودی لیبر مارکیٹ میں خواتین کی موجودگی معاشرے کے لیے قابل قبول بن چکی ہے۔ سعودی قیادت خواتین کو بااختیار بنانے کے سلسلے میں پرعزم ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں