The news is by your side.

Advertisement

غیرملکیوں کیلئے اقامہ اور پاسپورٹ سے متعلق اہم وضاحت جاری

ریاض : سعودی عرب میں اقامہ قوانین کے مطابق غیرملکیوں کے اقامے کے اجراء اور تجدید کے لیے پاسپورٹ اہم ہے۔پاسپورٹ کی مدت 5 یا 10 برس ہوتی ہے جبکہ اقامہ سالانہ بنیاد پر تجدید کیا جاتا ہے۔

جوازات کے سسٹم میں ہرغیرملکی کارکن کے اقامے اور پاسپورٹ کی جملہ تفصیلات موجود ہوتی ہیں, اگر کارکن کا پاسپورٹ ایکسپائرہو تو سسٹم میں اقامے کی تجدید ممکن نہیں ہوتی اس لیے پاسپورٹ ایکسپائر ہونے سے قبل اس کی تجدید کرانا ضروری ہوتا ہے۔

پاسپورٹ تجدید کرانے کے بعد اس کی معلومات جوازات کے سسٹم میں فیڈ کرانا ضروری ہوتی ہیں تاکہ سسٹم اپ ڈیٹ رہے۔ پاسپورٹ کی معلومات جوازات کے سسٹم میں اپ ڈیٹ کرانے کے عمل کو عربی میں نقل معلومات کہا جاتا ہے۔

غیرملکی کارکن کے اہل خانہ اس کی زیرکفالت ہوتے ہیں جن کے معاملات کو جوازات کے سسٹم میں اپ ٹو ڈیٹ رکھنا کارکن کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

جوازات کے ٹوئٹر پر ایک شخص نے فیملی کے اقامے کی تجدید کے حوالے سے دریافت کیا کہ ’اہل خانہ میں سے کسی ایک یا دو افراد کا پاسپورٹ ایکسپائرہونے کی صورت میں اقامہ تجدید کرایاجا سکتا ہے؟

سوال کا جواب دیتے ہوئے جوازات کا کہنا تھا کہ ’اہل خانہ میں سے کسی کا پاسپورٹ ایکسپائرہونے کی صورت میں سربراہ خانہ کے اقامے کی تجدید میں کوئی امرمانع نہیں ہوتا۔

واضح رہے سربراہ خانہ کے اقامے کی تجدید کے ساتھ ہی تمام اہل خانہ کے اقامے از خود تجدید ہوجاتے ہیں جس کے لیے فیملی پرعائد ماہانہ بنیاد پر فیس ادا کرنا بنیادی شرط ہے۔

جوازات کے قانون کے مطابق غیرملکی کارکنوں کے اقامہ کارڈ پراب ایکسپائری تاریخ درج نہیں کی جاتی جبکہ قبل ازیں اقامہ کارڈ ایک برس کےلیے بنایا جاتا تھا جسے تجدید کے وقت دوسرا پرنٹ کرنا ضروری ہوتا تھا مگر اب یہ سسٹم ختم کردیا گیا ہے اوراقامہ کارڈ پرایکسپائری تاریخ درج نہیں کی جاتی۔

اقامہ تجدید کے لیے مقررہ فیس ادا کرنے کے بعد سسٹم میں سالانہ بنیاد پرتجدید کردی جاتی ہے۔ اقامہ تجدید ہوتے ہی اقامہ ہولڈر کے موبائل پرپیغام ارسال کردیا جاتا ہے جبکہ جوازات کے ابشر پورٹل پر بھی کارکن کے اقامے کی تاریخ درج کردی جاتی ہے۔

کارکن چونکہ اپنے اہل خانہ کا کفیل ہوتا ہے، اس لیے تجدید کے وقت صرف سربراہ خانہ کے اقامے کی تجدید کےلیے کارآمد پاسپورٹ کا ہونا لازمی ہے جبکہ ماضی میں جب ڈیجیٹل اقامہ سسٹم رائج نہیں ہوا تھا، اس وقت کارکن کے تمام اہل خانہ کے کارآمد پاسپورٹ درکار ہوتے تھے جس کے بعد ہی انکے اقامے بھی تجدید کیے جاتے تھے۔

خیال رہے کہ پاسپورٹ بین الاقوامی شناختی دستاویز ہوتی ہے جس کا ہمیشہ کارآمد ہونا ضروری ہوتا ہے۔

اس امر کا خاص خیال رکھا جائے کہ پاسپورٹ ایکسپائرہونے سے قبل ہی اس کی تجدید کرانے کے بعد جوازات کے سسٹم میں نئے پاسپورٹ کی معلومات فیڈ کردی جائیں تاکہ کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اہل خانہ کا ایکسپائر پاسپورٹ ہونے کی صورت میں ہنگامی حالت میں سفرکرنے کے لیے دشواری کا سامنا ہوتا ہے کیونکہ پاسپورٹ ایکسپائرہونے پر نہ تو خروج وعودہ لگایا جاسکتا ہے اور نہ ہی فائنل ایگزٹ ویزہ حاصل کرنا ممکن ہوتا ہے، اس لیے پاسپورٹ کو ہمیشہ اپ ڈیٹ رکھا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی حالات میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں