The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب میں ایک بار پھر کاروبار اور ملازمتوں کے مواقع

دنیا بھر کے لوگوں کی بڑی تعداد سعودی عرب میں ملازمت کی خواہش رکھتی ہے کیونکہ کو یہاں تیل کی صنعت میں نوکریاں مل سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیم خصوصاً آئی ٹی جیسے شعبوں میں ملازمتوں کے بھی مواقع ہیں۔

کورونا وبا کی شدت میں کمی کے بعد سعودی حکمرانوں کی توجہ معیشت کو وسعت دینے پر مرکوز ہے، جس میں غیر ملکیوں کیلئے تعلیم، صحت، سیاحت اور انجینئرنگ کے مواقع بھی ہوسکتے ہیں۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق سعودی عرب کورونا کی عالمی وبا سے صحت یاب ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں ملک کے80 فیصد آجر2022 میں اپنی افرادی قوت کو بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ھایز سعودی عرب سیلری گائیڈ2022 کی رپورٹ کے مطابق مملکت میں 79 فیصد آجر اس سال کاروبار کے نقطہ نظر کے بارے میں مثبت محسوس کر رہے ہیں اور یہ عنصر انہیں ہیڈ کاؤنٹ بڑھانے پر مجبور کرتا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق دی ھایز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 43 فیصد آجر2021 میں اپنی افرادی قوت کو بڑھانے کا ارادہ رکھتے تھے جب کہ 2020 میں یہ صرف 29 فیصد تھی جس کی بنیادی وجہ کورونا کی عالمی وبا کے باعث کاروبار کی دنیا جمود کا شکار تھی۔

ھایز سعودی عرب کے بزنس مینیجر آرون فلیچر نے کہا کہ کورونا کی وبا کے دو سال بعد سعودی عرب میں ملازمت کی مارکیٹ یقینی طور پر واپس آگئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وژن 2030 اور پی آئی ایف میگا پروجیکٹس کے ارد گرد نئے اور جاری انیشیٹوز روزگار کی منڈی میں بڑھتے ہوئے مواقع کے ساتھ ساتھ متعدد اسٹارٹ اپس اور ملٹی نیشنل کمپنیاں خطے میں ہیڈ کوارٹرز قائم کر رہی ہیں۔

فلیچر نے یہ بھی نوٹ کیا کہ متعدد کمپنیاں اپنی جگہ کو محفوظ بنانے اور متوقع تیزی سے پہلے مارکیٹ شیئر قائم کرنے کے لیے مارکیٹ میں داخل ہو رہی ہیں۔

تحقیقی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 2022 کو ایسے ملازمین کی خدمات حاصل کرنے میں خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو ٹیکنالوجی، انتظامی اور قیادت کے تحت آتے ہیں۔

ھایز کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ملازمت میں سب سے زیادہ مانگ بزنس ڈویلپمنٹ ڈائریکٹرز، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ماہرین، سینئیر قانونی پیشہ ور افراد، ڈیزائن اور پری ڈیزائن کنسٹرکشن پروفیشنلز شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں