The news is by your side.

Advertisement

معمولی بات پر ٹیچرز کو تشدد کا نشانہ بنانے والی سعودی خاتون انجام کو پہنچ گئی

ریاض : سعودی عدالت نے خاتون اساتذہ کو تشدد کا نشانہ بنانے اور ہراساں کرنے کے جرم میں طالب علم کی ماں کو قید کی سزا سنا دی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے کرمنل کورٹ نے اساتذہ پر تشدد کیس کی سماعت کرتے ہوئے طالبعلم کی والدہ کو ایک سال قید کی سزا سنا دی، جس نے ریاض کے ایک اسکول کی دو خاتون ٹیچروں کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ خاتون چھٹی کے وقت اپنے بچے کو اسکول لینے پہنچی تو ان کا بچہ گراونڈ میں کھیل رہا تھا جس پر خاتون نے مصری ٹیچر سے بچے کو گراونڈ سے لانے کا کہا، جس پر مصری ٹیچر نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ ’اس کی ڈیوٹی ختم ہوچکی ہے‘۔

خاتون ٹیچر کے جواب پر طالبعلم کی ماں نے ناراضگی کا اظہار کیا اور اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا اور زبانی طور پر بھی ہراساں کیا، ٹیچر پر تشدد ہوتا دیکھ کر دوسری ٹیچر جس کا تعلق سعودیہ سے تھا، نے روکنے کی کوشش کی تاہم طالبعلم کی والدہ نے اس کے چہرے پر بھی تھپڑوں کی برسات کردی۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ماں نے ٹیچرز کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پولیس میں ان کے خلاف شکایت بھی درج کرائی، جس پر متاثرہ اساتذہ نے بھی مذکورہ خاتون کے خلاف شکایت درج کرادی جس کے باعث کیس پبلک پراسیکیوشن کے سپرد کردیا گیا۔

عدالت میں کیس پہنچا تو واقعے کے عینی شاہدین کی گواہی کے بعد جج نے طالب علم کی والدہ کا کیس خارج کردیا جبکہ ٹیچرز کو تشدد کا نشانہ بنانے کے جرم طالبعلم کی ماں کو 1 سال قید کی سزا سنا دی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں