The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: انفلوئنزا ویکسین کے حوالے سے غلط دعوے

ریاض: انفلوئنزا ویکسین کے حوالے سے غلط دعوؤں کے سلسلے میں کنگ فہد میڈیکل سٹی کی جانب سے اہم وضاحت جاری کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کنگ فہد میڈیکل سٹی نے انفلوئنزا ویکسین کے بارے میں من گھڑت تصورات اور دعوؤں کی حقیقت کھول دی ہے، جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ ویکسین سے متعلق جتنے بھی دعوے ہیں وہ غلط ہیں۔

مقامی اخبار کے مطابق انفلوئنزا ویکسین استعمال کرنے والوں سے متعلق یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ نشوونما کی معذوری کی بیماری آٹزم میں مبتلا ہو جاتے ہیں، کنگ فہد میڈیکل سٹی نے بتایا کہ یہ دعویٰ من گھڑت ہے، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے-

ایک غلط خیال یہ بھی انفلوئنزا ویکسین کے بارے میں پایا جاتا ہے کہ جو لوگ یہ ویکسین استعمال کرتے ہیں وہ اسی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں، لیکن کنگ فہد میڈیکل سٹی کے مطابق یہ غلط خیال ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس کی بدولت 70 سے 90 فی صد تک انفلوئنزا کا شکار ہونے سے تحفظ مل جاتا ہے-

ایک اور دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ انفلوئنزا ویکسین سے نئی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں، یہ خیال بھی غلط ہے، کنگ فہد میڈیکل سٹی کا کہنا ہے کہ ویکسین بالکل محفوظ ہے، اس سے کوئی خطرہ نہیں، حتیٰ کہ اس کے سائیڈ ایفیکٹس بھی بہت معمولی ہیں اور یہ کبھی کبھار ہی ظاہر ہوتے ہیں۔

حاملہ خواتین میں انفلوئنزا ویکسین کے استعمال سے متعلق بھی یہ ٖغلط خیال پھیلا ہوا ہے کہ یہ ماں بننے والی خواتین کے لیے موزوں نہیں ہے، لیکن یہ خیال بھی درست نہیں، اس کے برعکس ڈاکٹرز ماں بننے والی خواتین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ انفلوئنزا ویکسین ضرور لیں۔

ایک اور غلط خیال کے تحت الرجی کو بھی اس ویکسین سے جوڑا جا رہا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، کنگ فہد میڈیکل سٹی کا کہنا ہے کہ انفلوئنزا ویکسین سے کوئی الرجی پیدا نہیں ہوتی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں