The news is by your side.

سعودی عرب میں قیدیوں کو جسمانی و ذہنی تشدد کا سامنا، برطانوی میڈیا

ریاض : برطانوی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ ’سعودی عرب کے سیاسی قیدیوں کو دوران حراست جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے‘۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی خبر رساں ادارے دی گارجین ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کے حکام شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے الزام میں گرفتار کیے گئے دو سو سے زائد افرادکی گرفتاری کے حکم نامے کا جائزہ لینے کا حکم بھی دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سعودی جیلوں میں قید افراد کو جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنانے کے طبی معائنے کی رپورٹ شاہ سلمان کو پیش کی جائے گی۔

برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ رپورٹ دیکھنے کے بعد امکان ہے کہ شاہ سلمان جسمانی تشدد کا نشانہ بنائے جانے والے قیدیوں کی رہائی کا حکم دے دیں۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ جسمانی و ذہنی تشدد کا شکار 60 سے زائد قیدیوں کے طبی معائنے کا حکم شاہ سلمان کی جانب سے دیا گیا تھا۔

اخبار کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد کی جانب سے قیدیوں کے طبی معائنے پر اعتراض کیا گیا تھا لیکن شاہی عدالت نے پھر بھی طبی معائنے کی رپورٹ تیار کی۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جیلوں میں قید افراد شدید طبی مسائل کا شکار ہیں اور قیدیوں کو غذائی کمی کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

گزشتہ دو برسوں سے سعودی عرب سے متعلق رپورٹس موصول ہوتی رہی ہیں جس میں سیاسی قیدیوں، سماجی کارکنوں کو ماورائے قانون گرفتار کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں : سعودیہ میں قید خواتین رضاکاروں کو جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

خیال رہے کہ رواں برس جنوری کے اختتام پر برطانیہ کی انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سعودی عرب سے متعلق اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا تھا کہ ریاست سعودی عرب کے صوبے جدہ کی دھابن جیل میں قید انسانی حقوق کی عملبرداروں کو دوران حراست جنسی زیادتی، تشدد اور دیگر ہولناک زیادتیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں : سعودیہ میں‌ قید خواتین رضاکاروں کی پہلی مرتبہ عدالت میں پیشی

یاد رہے کہ سعودی عرب نے انسانی حقوق کی علمبردار متعدد خواتین کو ایک برس قبل سعودی حکومت کے خلاف اور خواتین کی آزادی کےلیے آواز اٹھانے پر گرفتار کیا تھا جن میں سے دس رضاکار خواتین کو 13 مارچ عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں