The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: غذائی اشیا کی طلب میں 60 فیصد اضافہ

ریاض: سعودی عرب میں کرونا وائرس کے باعث غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر لوگوں میں غذائی اشیا اور ادویہ ذخیرہ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوگیا، غذائی اشیا کی طلب میں 60 فیصد اضافہ ہوگیا۔

سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب میں کرونا وائرس کے باعث غذائی اشیا اور جراثیم کش ادویہ کی طلب 60 فیصد تک بڑھ گئی ہے، حالیہ 2 ہفتوں کے دوران سعودیوں اور مقیم غیر ملکیوں نے کھانے پینے کی اشیا اور جراثیم کش ادویہ بڑی مقدار میں ذخیرہ کی ہیں۔

مملکت میں بیشتر بڑے تجارتی مراکز صارفین کی خریداری کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے ہیں، مخصوص اشیائے صرف پر رعایتی پیشکشیں بھی متعارف کروائی گئی ہیں۔ تجارتی مراکز اپنے گودام خالی کرنے کے لیے موجودہ صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

سعودی مارکیٹوں کو بڑے پیمانے پرشاپنگ سے رواں ماہ کے دوران کروڑوں ریال کا منافع ہونے کی توقع ہے۔ کرونا وائرس سے ایک طرف تجارتی مراکز کی چاندی ہوئی ہے تو دوسری جانب زیادہ تر اقتصادی شعبے متاثر بھی ہوئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کرونا نے سعودی بازاروں میں اقتصادی کساد بازاری ختم کردی ہے، تارکین اور سعودی شہری ذہنی خدشات کے اثر میں راشن ذخیرہ کرنے لگے ہیں۔

ایک تجارتی مرکز کے انچارج عادل البلوی کا کہنا ہے کہ عالمی میڈیا نے کرونا بحران کی حد سے زیادہ پبلسٹی کر کے سب کو خوفزدہ کردیا ہے، عام صارفین پر اس کا بہت برا اثر ہوا ہے وہ ممکنہ خطرناک صورتحال سے بچنے کے لیے کھانے پینے کی اشیا ذخیرہ کر رہے ہیں۔

ایک اور تجارتی مرکز کے انچارج مروان عبداللہ کا کہنا ہے کہ کرونا بحران کے پہلے ماہ 60 فیصد سے زیادہ سیل ہوئی اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وائرس پر قابو پانے کا اعلان ہی اب صارفین کو اشیائے ضروریہ کی خریداری کرنے سے روک سکے گا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں