The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب : گاڑی مالکان مالی نقصان اور جرمانے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

سعودی محکمہ ٹریفک پولیس کی جانب سے مملکت کے تمام ریجنز میں خلاف ورزیوں پر خود کارسسٹم کے تحت چالان کیا جاتا ہے۔

خود کار چالان سسٹم مرکزی شاہراہوں پر نصب ہے جو ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کے علاوہ مقررہ رفتار سے زیادہ گاڑی چلانے پر چالان کرتا ہے۔

دیگر چالانز جن میں پارکنگ کی خلاف ورزی اور رانگ سائیڈ ڈرائیونگ شامل ہیں، ٹریفک پولیس اہلکار کی جانب سے کیے جاتے ہیں اور ڈیجیٹل چالان کہلاتے ہیں۔

ڈیجیٹل چالان کے تحت ٹریفک پولیس اہلکاروں کو مخصوص اسمارٹ ڈیوائسز فراہم کی جاتی ہیں جن کے ذریعے وہ گاڑیوں کی خلاف ورزی ریکارڈ کرتے ہیں اور خود کارسسٹم کے ذریعے انہیں فیڈ کر دیا جاتا ہے۔

ٹریفک چالان کے حوالے سے ایک شخص نے ادارے کے ٹوئٹر پر دریافت کیا ’گھر کے باہر پارک کی ہوئی گاڑی پر نو پارکنگ کا چالان کر دیا گیا، کیا کریں؟

ادارہ ٹریفک پولیس کا کہنا تھا کہ ادارے کے شعبہ شکایات میں پیشگی وقت حاصل کر کے مقررہ وقت پر جائیں۔ وہاں چالان کی تفصیلات پیش کر دی جائیں گی۔

شکایات کے شعبے سے رجوع کرنے پر کیا گیا چالان اگر غلط ہوتا ہے تو اسے کینسل کر دیا جاتا ہے تاہماگرچالان غلط نہیں تو اسے ادا کرنا ضروری ہے۔

واضح رہے ٹریفک قوانین کے مطابق پارکنگ قانون کی خلاف ورزی پر ٹریفک پولیس کو اختیار ہے کہ وہ چالان کرے، پارکنگ قانون پر عمل کرنا ضروری ہے، خلاف ورزی پر150ریال کا چالان ہوتا ہے۔

پارکنگ قانون کے تحت بڑی رہائشی عمارتوں، شاپنگ سینٹرز، مالز، دفاتر اور بینکوں کے باہر مخصوص افراد کے لیے پارکنگ کی خصوصی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

ایسے مقامات جو مخصوص افراد کے لیے خاص ہوتے ہیں وہاں عام لوگوں کو گاڑی پارک کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ مخصوص پارکنگ کی خلاف ورزی پر ٹریفک پولیس اہلکار فوری طور پر گاڑی کے مالک کا چالان کر دیتا ہے، اس لیے ایسے مخصوص مقامات پر گاڑی پارک نہ کی جائے۔

ٹریفک حادثے میں انشورنس اسکیم کے حوالے سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ ٹریفک حادثے میں دوسری پارٹی کی انشورنس اس کی گاڑی کے استمارے یعنی گاڑی کے ملکیتی کارڈ سے مطابقت نہیں رکھتی۔ حادثے

کے بعد فائل نامکمل ہونے پر اس کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکی اس حوالے سے کیا کریں؟

ٹریفک پولیس کی جانب سے کہا گیا ’ٹریفک حادثے کی صورت میں "ادارہ نجم” کی جانب سے جاری کی جانے والی رپورٹ اہم ہوتی ہے جس کے لیے لازمی ہے کہ دونوں پارٹیوں کی پاس تھرڈ پارٹی انشورنس ہو۔

’کسی ایک پارٹی کے پاس انشورنس نہ ہونے پر حادثے کی رپورٹ پر فیصلہ ٹریفک پولیس کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ مذکورہ کیس میں قریب ترین ادارہ ٹریفک پولیس سے رجوع کیا جائے تاکہ معاملے کو حل کیا جاسکے۔

ٹریفک قانون کے تحت گاڑیوں کی کم از کم تھرڈ پارٹی انشورنس کرانا لازمی ہے، انشورنس پالیسی نہ ہونے پر چالان کیا جاسکتا ہے۔

تھرڈ پارٹی انشورنس کی وجہ سے حادثہ ہونے پرنقصان کی ادائیگی انشورنس کمپنی کے ذمہ ہوتی ہے۔ ٹریفک قانون کے تحت نجی سکیورٹی کمپنی جسے "نجم” کہتے ہیں، ٹریفک حادثات کی رپورٹ بنا کر اسے ادارہ ٹریفک پولیس کے سسٹم میں اپ لوڈ کر دیتی ہے۔

نجم کمپنی غلطیوں کا بھی تعین کرتی ہے۔ جاری کی جانے والی رپورٹ کے بعد انشورنس کلیم داخل کرایا جاتاہے۔ انشورنس کلیم داخل کرنے کے بعد تھرڈ پارٹی کے قانون کے تحت دونوں پارٹیوں کی انشورنس کمپنیاں ہونے والے نقصان کا ازالہ کرتی ہیں اور طے کی گئی رقم ادا کی جاتی ہے۔

جس پارٹی کے پاس انشورنس نہیں ہوتی اس کے کیس کا فیصلہ ادارہ ٹریفک پولیس کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ ٹریفک پولیس کے ادارے میں غلطی کے تناسب کا تعین کرنے کے بعد ادائیگی پرعمل کرانے کی ذمہ داری بھی پولیس کی ہوتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں