The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب کی کم عمر ناول نگار گنیز بک آف ریکارڈز کے لیے نامزد

ریاض: سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی ریتاج الحازمی کو دنیا کی کم عمر ناول نگار کی حیثیت سے گنیز بک آف ریکارڈز میں‌ شامل کرنے کے لیے نامزد کرلیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق گیارہ سالہ ریتاج الحازمی کا تعلق سعودی عرب سے ہے،کم عمر مصنفہ کے دو ناول شائع ہوچکے جبکہ وہ مزید دو ناولوں پر کام کررہی ہے،انہوں نے ایک ناول بچوں کے لئے بھی لکھا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو دئیے گئے انٹرویو میں ریتاج الحازمی نے بتایا کہ میں محض چھ سال کی تھی، جب میں لکھنا شروع کیا، یہ ایسا اتفاق تھا کہ جب میں اپنے خاندان کے ساتھ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لئے گئی تو میں نے جس اسکول میں داخلہ لیا تو وہاں کی خاتون ٹیچر نے مجھےان مقامات کے بارے میں لکھنے کا کہا جن کی میں اپنے خاندان کے ساتھ سیر کر چکی تھی۔

ریتاج الحازمی کا کہنا تھا کہ یہ میرے لئے انتہائی شاندار موقع رہا،میں نے اپنے گھر کے قریب موجود ایک لائبریری سے فائدہ اٹھایا، ساتھ ہی اس عرصے میں بہت سے پروگراموں اور سرگرمیوں میں شمولیت اختیار کی،بعد ازاں سعودی عرب واپسی پر میں نے لائبریریوں کے دورے کرنا شروع کئے،یوں میرے سفر کا آغاز ہوا۔

سعودی عرب کی کم عمر مصنفہ کا کہنا تھا کہ آٹھ سال کی عمر میں صرف مختصر کہانیاں لکھنا شروع کیں،کیونکہ مختصر کہانیاں لکھنا مجھے پسند تھا، ایک دن جب میں کچھ کتابیں خریدنے کے لیے بازار گئی تو میرے والد نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ چاہتی ہو کہ ان کتابوں میں آپ کی کتاب بھی شامل ہو؟ یہ محض ایک خیال تھا اور تھوڑی ہی عرصے بعد میں نے تحریری دنیا میں قدم رکھا ،مجھے یاد ہے کہ گرمیوں کے ایک موسم میں میں نے پچاس کتابیں پڑھ ڈالیں جس کے بعد میرے لکھنے کی صلاحیت اور بہتر ہوئی۔

ریتاج الحازمی کا پہلا ناول ‘Treasure of the Lost Sea’ گم شدہ سمندر کا خزانہ کے عنوان سے شائع ہوا، اس وقت ان کی عمر صرف گیارہ سال تھی، اسی سال اان کا دوسرا ناول ‘Portal of the Hidden World’ شائع ہوا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو دئیے انٹرویو میں ریتاج الحازمی نے بتایا کہ وہ عربی اور انگریزی روانی کے ساتھ بولتی ہیں اور اب جاپانی سیکھ رہی ہیں،میری دلچسپیوں میں صرف ناول نگاری ہی نہیں بلکہ مطالعہ، لکھنا اور ڈرائنگ بھی شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں