The news is by your side.

Advertisement

چپس فروخت کرنے والے سعودی نوجوان کی بلدیہ اہلکاروں سے بحث

ریاض: سعودی عرب میں بلدیہ اہلکاروں کی جانب سے ایک نوجوان کا اسٹال ہٹانے پر اس نوجوان کی بحث کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

سعودی عرب کے شہر تبوک میں چپس فروخت کرنے والے سعودی نوجوان کی بلدیہ کے اہلکاروں سے الجھنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔

بلدیہ کی ٹیم کے ساتھ ہونے والے مکالمے میں سعودی نوجوان کا کہنا تھا کہ مجھے حلال روزی کمانے دیں تاکہ میں اپنے گھر والوں پرخرچ کر سکوں۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بلدیہ کے اہلکار نوجوان کو اسٹال ہٹانے کا کہہ رہے ہیں جبکہ نوجوان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کے لیے حلال روزی کی تلاش میں ہے۔

بلدیہ کے اہلکار کی جانب سے کہا گیا کہ قانون کے مطابق دکان کیوں نہیں کرتے؟ تو جواب میں نوجوان نے کہا کہ اس کے پاس اتنی رقم نہیں کہ کوئی دکان لے سکے۔

ریجنل بلدیہ نے اس واقعہ پر وضاحتی بیان میں کہا کہ علاقے میں چپس کا اسٹال لگانے والے نوجوان کے بارے میں شکایت ملی تھی کہ وہ حفظان صحت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چپس تیار کر رہا تھا۔

شکایات ملنے پر بلدیہ کی تفتیشی ٹیموں نے کارروائی کی اور نوجوان کو اسٹال ہٹانے کے لیے کہا۔

بلدیہ کی جانب سے کہا گیا کہ خوانچہ فروشی قانون شکنی ہے، بلدیہ کی ٹیم نے اپنے فرائض ادا کیے ہیں، قانون سب کے لیے یکساں ہے۔

بلدیہ نے قانونی طور پر اسٹالز کے لیے مقامات مختص کیے ہیں تاکہ وہاں فراہم کی جانے والی اشیائے خور و نوش کے معیاری ہونے کے حوالے سے جائزہ بھی لیا جا سکے، غیر قانونی طور پر لگائے گئے اسٹالز کی نگرانی ممکن نہیں ہوتی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں