The news is by your side.

Advertisement

سعودی شہریت، 30 سال بعد خاتون کی کوششیں رنگ لے آئیں

ریاض: سعودی انسانی حقوق ادارے نے نامعلوم والدین(مجہول) کے ہاں پرورش پانے والی خاتون کو 30 سال بعد ملکی شہریت دلوا دی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں مجہول والدین کی خاتون بغیر دستاویزات کے رہ رہی تھیں لیکن بعد میں شہریت کے حصول کی کوششیں کیں لیکن ناکام رہیں۔

رپورٹ کے مطابق بعد ازاں سعودی انسانی حقوق نے متاثرہ لڑکی کی مدد کی اور مملکت کی شہریت دلوائی۔

متاثرہ خاتون کے پاس سعودی شہریتی دستاویزات نہیں تھیں جس کے باعث وہ کئی شہری حقوق سے محروم رہیں کیوں کہ گود لینے والے سعودی خاندان نے مذکورہ خاتون کی دستاویزات کے سلسلے میں کوئی اقدامات نہیں اٹھائے تھے۔

اس ضمن میں متعلقہ اداروں کو بھی اطلاع نہیں دی گئی تھی، اس حوالے سے تفصیلات معلوم کرنے پر پتا چلا کہ وہ مجہول والدین کی اولاد ہے جس کا بچپن ایک سعودی خاندان کے ہاں گزرا ہے۔

خاتون نے سعودی انسانی حقوق ادارے سے رابطہ کیا جس نے اسے شہریت دلوائی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں