The news is by your side.

Advertisement

سعودی اتحادی افواج کی حوثیوں کے مضبوط ٹھکانوں پر فضائی بمباری

صنعاء : سعودی اتحادی افواج کی جانب سے یمن کے صوبے الجوف کے شمال اور مغربی علاقوں میں فضائی بمباری میں درجنوں حوثی جنگجو ہلاک ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق یمن کے برسرپیکار حوثی جنگجوؤں اور سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے عرب اتحاد کے درمیان گذشتہ چند روز سے کئی محازوں پر جھڑپیں جارہی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سعودی اتحادی افواج کی جانب سے گذشتہ روز حوثیوں کے متعدد ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی گئی ہے، جس میں درجنوں حوثیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

عسکری ذرائع کا کہنا تھا کہ صوبے الجوف سمیت یمن کے کئی علاقوں میں سرکاری افواج اور حوثیوں باغیوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں، عرب اتحاد اور حوثیوں میں جنگ کے دوران حوثی کمانڈر مقتدیٰ العصار بھی ہلاک ہوچکا ہے۔

یمن سے آنے والی اطلاعات کے مطابق یمنی صوبے الجوف کے شمال اور مغربی حصّوں المتون اور المصلوب سمیت کئی علاقوں میں ہولناک لڑائی جارہی ہے۔

سعودی اتحادی افواج کی جانب سے جنگ کے دوران ضلع المصلوب اور صوبہ عمران سمیت شمالی علاقوں میں بہت زیادہ فضائی بمباری کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد حوثی جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ یمنی افواج اور سعودی اتحاد کی جانب سے حوثیوں کے خلاف حالیہ کارروائیاں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھ کی جانب سے صنعاء کے دورے کے بعد کی گئی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن کی جانب سے حوثی باغیوں کے لیڈروں سے یمن میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے ملاقاتیں کی گئی ہیں، ملاقات کے دوران مارٹن اور حوثی سربراہوں کے درمیان الحدیدہ کی بندرگاہ کا کنٹرول اور سرکاری افواج کے حوالے کرنے پر بات چیت کی گئی تھی۔

عرب میڈیا نے جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصأ ایلچی نے یمن سے جاتے ہوئے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’یمن کی خراب صورت حال اور انسانی قتل عام پر تشویش ہے، لیکن ملک کے سیاسی بحران کو ختم کرنے لیے بات چیت سے صرف وقت ضائع کیا ہے‘۔

مارٹن گریفتھ کی جانب سے معاونین خصوصی کو الحدیدہ میں جنگ بندی کے لیے کوششیں جارہی رکھنے کے لیے زور دیا ہے، صنعاء کے عالمی ہوائی اڈے پر تجارتی پروازوں کے لیے کھولنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں