The news is by your side.

Advertisement

سعودی جوڑے نے شیر خوار بچے کے قتل میں سزائے موت پانے والی ملازمہ کو معاف کردیا

سعودی جوڑے نے اپنے شیر خوار کے قتل کے جرمیں سزائے موت پانے والی انڈونیشین ملازمہ کو معاف کردیا، انڈونیشین حکومت نے اپنے شہری سے صلہ رحمی کے عوض سعودی جوڑے کو انڈونیشیا کے دورے پر بلایا جہاں انہوں نےاپنی سابق ملازمہ سے ملاقات بھی کی۔

تفصیلات کے مطابق غالب ناصر الحمری البلاوی اور ان کی اہلیہ کا 11 ماہ کا بچہ آج سے نو سال قبل سنہ 2009 میں مردہ پایا گیا تھا، پولیس تحقیقات میں بچے کے گال پر ملازمہ کی انگلیوں کے نشان ملے جس پر اسے شاملِ تفتیش کرلیا گیا تھا۔

مسماح نامی اس انڈونیشین ملازمہ کا ٹرائل سنہ 2009 میں شروع ہوا تھا ،اس نے ہمیشہ جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس نے جب بچے کو بے سدھ دیکھا تو اس کے گال کو چھو کر دیکھا جس کے سبب اس کی انگلیوں کے نشانات وہاں موجود تھے۔

انڈونیشین ملازمہ کو سعودی عدالت کی جانب سے 2014 میں پانچ سال قدید کی سزا سنائی تھی تاہم ڈسٹرکٹ اٹارنی کی اپیل پر سنہ 2016 میں سزا کو سزائے موت میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

مارچ 2017 میں ملازمہ کی جانب سے دائر کردہ اپیل کی سماعت کے دوران البلاوی اور ان کی اہلیہ نے ملازمہ کو معاف کردیا اور فیصلہ کیا کہ اس سے کسی بھی قسم کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔ تاہم عدالتی حکم پر ملازمہ کو اپنی سزا کی مدت مکمل کرنا پڑ ی اور رواں سال جنوری میں اسے رہا کیا گیا اور وہ مارچ میں اپنے وطن واپس آئی۔

گزشتہ ہفتے سعودی جوڑا انڈونیشیا پہنچا ، ان کا یہ دورہ ایک ہفتے پر مشتمل ہے اور اس میں انہوں نے مسماح اور اس کے اہل ِ خانہ سے ملاقات بھی کی ، اس موقع پر جکارتہ میں سعودی سفارت خانے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’’ انہوں نے معافی کے عوض کسی بھی شے کا مطالبہ نہیں کیا سوائے اس کے کہ اللہ ان پر رحم کرے‘‘۔

اس موقع پرانڈونیشیا کی وزراتِ برائے بیرونِ ملک مقیم شہری کے افسر عارف ہدایت کا کہنا ہے کہ سعودی جوڑے کا دورہ انڈونیشیا ان کی حکومت کی جانب سے اظہارِ تشکر ہے کہ انہوں نے انڈونیشین شہری کو معاف کرکے اس کی مشکلات آسان کردیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں