The news is by your side.

Advertisement

شام: سعودی عرب نے امریکی اتحادیوں کے حملوں کی حمایت کردی

ریاض: سعودی حکومت نے شام میں ہونے والے امریکی اتحادیوں کے حملوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین ملکی اتحاد نے حالیہ حملوں میں صرف کیمیائی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم امریکی اتحاد میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں کیونکہ شامی حکومت نہتے عوام پر بے دریغ کیمیائی ہتھیار استعمال کررہی ہے‘۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اُس کے اتحادیوں نے  رجیم حکومت کو مسلسل متنبہ کیا کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے باز رہیں تاہم انہوں نے احکامات کو نظر انداز کیا اور گذشتہ کئی برسوں سے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا‘۔

مزید پڑھیں: شام میں حملے کا ہدف کیمیائی ہتھیاروں کو ختم کرنا تھا‘ برطانوی وزیراعظم

سعودی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ عالمی برادری بھی شامی حکومت کو کیمیائی ہتھیار کے استعمال  سے باز رکھنے میں ناکام رہی جس کے بعد امریکا اور اتحادیوں کو مجبوراً کارروائی کرنی پڑی۔

واضح رہے کہ 13 اور 14 اپریل کی درمیانی شب امریکا نے برطانیہ اور فرانس کے تعاون کے ساتھ شام میں کیمیائی تنصیبات پر تقریباً 110  میزائل حملے کیے تھے، جس کے نتیجے میں شامی دارالحکومت دمشق دھماکوں کی آوازوں سے گونج اٹھا تھا۔ بعد ازاں برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ شام میں حملے کا ہدف کیمیائی ہتھیاروں کو ختم کرنا تھا جو بڑی حد تک کامیاب رہا۔

تھریسامے کا کہنا تھا کہ بطوروزیراعظم شام میں فوجی کارروائی کا حکم دینا مشکل مگر درست فیصلہ تھا، آئندہ بھی ضرورت پڑی تو اس اتحادی افواج عوام کے خاطر اس طرح کے حملے کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا اور اس کے اتحادیوں نے شام پرحملہ کردیا

قبل ازیں بحرین نے بھی شام میں ہونے والے امریکی حملوں کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ  شامی شہریوں کے تحفظ اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے کے لیے یہ اقدام کیا گیا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کی شب امریکا، برطانیہ اور فرانس کے اتحاد سے شام میں مشترکہ آپریشن کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ بشار الاسد اور روس کے اتحادیوں نے کیمیائی حملے کیے جس کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا، اب ہم اُن کے اڈوں کو نشانہ بنائیں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں